کریملن کا بیان: جاپان کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات فی الحال ناممکن

Kremlin Kremlin

کریملن کا بیان: جاپان کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات فی الحال ناممکن

ماسکو (صداۓ روس)
کریملن نے واضح کیا ہے کہ روس اور جاپان کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ التوا امن معاہدے پر اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق ٹوکیو کے “غیر دوستانہ” مؤقف کے باعث دوطرفہ تعلقات نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس کے ہوتے ہوئے امن معاہدے پر پیش رفت ممکن نہیں۔ پیسکوف نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی پارلیمان میں پالیسی تقریر پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات “عملاً صفر” ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول جب تک باضابطہ مکالمہ بحال نہیں ہوتا، امن معاہدے جیسے حساس موضوعات پر گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ روس نے سفارتی رابطے ختم کرنے کی کبھی حمایت نہیں کی، اور موجودہ تعطل کی ذمہ داری جاپان پر عائد ہوتی ہے۔ روس اور جاپان دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے بعد آج تک باقاعدہ امن معاہدہ طے نہیں کر سکے، اگرچہ 1956 کے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے جنگی کیفیت کا خاتمہ اور سفارتی تعلقات کی بحالی عمل میں آئی تھی۔ تاہم کوریل جزائر کے جنوبی حصے پر خودمختاری کے تنازع نے مستقل معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی رکھی۔ یہ تنازع مارچ 2022 میں مزید شدت اختیار کر گیا جب روس نے یوکرین تنازع کے تناظر میں مغربی پابندیوں میں جاپان کی شمولیت کے جواب میں امن معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے۔ ماسکو نے کیف کے لیے جاپانی حمایت پر بھی مسلسل اعتراضات اٹھائے ہیں۔