لاہور: سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش مل گئی، بچی کی تلاش جاری

Rescue 1122 Rescue 1122

لاہور: سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش مل گئی، بچی کی تلاش جاری

اسلام آباد (صداۓ روس)
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً تین کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ خاتون کی 9 ماہ کی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔ واقعے کے بعد شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انتظامیہ نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ڈی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے ہائی لیول انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ پولیس نے اس کیس میں حراست میں لیے گئے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو رہا کر دیا ہے، جو پہلے تفتیش کی غرض سے گرفتار کیے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاندان شورکوٹ سے سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہل خانہ نے پہلے مینارِ پاکستان اور بعد ازاں داتا دربار کا رخ کیا، جہاں خاتون اپنی کمسن بچی کے ہمراہ سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی تھیں۔ اسی دوران دونوں اچانک سیوریج لائن میں گر گئیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے 24 گھنٹوں کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب قرار دیے جانے پر پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو معطل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ خاتون اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا دعویٰ سب سے پہلے خاتون کے شوہر نے کیا تھا، تاہم ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں دو افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا، اس میں تکنیکی طور پر کسی انسان کا ڈوبنا ممکن نہیں تھا۔ انتظامیہ کے مطابق خاتون کے گرنے کی مبینہ جگہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں واقع ہے، جہاں پہلے سے کھدائی کی گئی تھی اور واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا بھی تھا۔

Advertisement

Rescue 1122

ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور چند ہی منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے اور فوری سرچ آپریشن شروع کیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ سیوریج لائن کے معائنے میں کسی حادثے کے شواہد نہیں ملے۔ دوسری جانب لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا تھا، تاہم مزید تفتیش کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے ریسکیو اور دیگر اداروں کا آپریشن مسلسل جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔