تعلقات میں کشیدگی: جاپان میں موجود آخری پانڈا بھی چین واپس روانہ
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ٹوکیو کے اوئینو چڑیا گھر میں اتوار کے روز پانڈا دیکھنے والوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جہاں شائقین نے چار سالہ جڑواں پانڈاؤں شاؤ شاؤ اور لے لے کو الوداع کہا۔ یہ دونوں پانڈا اس ہفتے چین واپس روانہ ہو رہے ہیں، جس کے بعد جاپان گزشتہ چالیس برسوں میں پہلی مرتبہ پانڈاؤں کے بغیر ہو جائے گا. چین نے پہلی مرتبہ انیس سو بہتر میں جاپان کو پانڈا تحفے کے طور پر دیے تھے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی علامت تھے۔ چین کی نام نہاد “پانڈا سفارت کاری” کے تحت پانڈا بدستور بیجنگ کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں اور انہیں قومی علامت اور خیرسگالی کے سفیر کے طور پر مختلف ممالک کو عارضی طور پر دیا جاتا ہے۔ تاہم جاپان اور چین کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں میں شدید تناؤ کے باعث نئے پانڈا حاصل کرنے کے امکانات انتہائی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹوکیو اور بیجنگ کے تعلقات اس وقت کئی برسوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب نومبر میں جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے کہا کہ اگر چین نے خود مختار جزیرے تائیوان پر حملے کی کوشش کی تو جاپان عسکری طور پر مداخلت کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تنازع جاپان کے وجود کے لیے خطرہ بنے تو جاپانی سیلف ڈیفنس فورسز کو تعینات کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جاپانی علاقہ تائیوان سے محض ایک سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چین نے جاپانی وزیر اعظم کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف “عسکری دھمکی” قرار دیا، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو طلب کیا۔ بیجنگ نے جاپان جانے والے سیاحوں اور طلبہ کے لیے باضابطہ وارننگ بھی جاری کی۔ تائیوان انیس سو انچاس میں چینی خانہ جنگی کے بعد قوم پرست افواج کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ بیجنگ “ون چائنا پالیسی” کے تحت اسے اپنی خودمختار سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔
روس کی جانب سے تائیوان کے معاملے پر چین کی حمایت دو ہزار ایک میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان طے پانے والے اچھے ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے میں شامل ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے گزشتہ سال کہا تھا کہ تائیوان کو بیجنگ کے خلاف “عسکری و اسٹریٹجک دباؤ” کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض مغربی ممالک تائیوان کی دولت اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔