ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ لاطینی امریکہ میں کسی نئی سلطنت کے قیام کی کوشش نہ کی جائے اور خطے کے مسائل کا حل فوجی مداخلت کے بجائے مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ ایک انٹرویو میں کولمبیا کے صدر نے کہا کہ لاطینی امریکہ کسی کے لیے “فتح کرنے کی سرزمین” نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو خطے کے ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنی چاہیے اور کیوبا سمیت دیگر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کے عالمی نظام میں شامل کرنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
گستاوو پیٹرو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب جنوری میں امریکی افواج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو کاراکاس میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن کی جانب سے کیوبا میں ممکنہ “رجیم چینج” کے بارے میں بھی متعدد بیانات سامنے آئے ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کر رہے ہیں جو “سفید فام، عیسائی اور مغربی تہذیب” پر مبنی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سوچ “صلیبی جنگوں کے دور” کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کے مترادف ہو سکتی ہے اور اس سے معاشروں میں شدید تشدد جنم لے سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی کے نام پر خطے میں اپنی فوجی سرگرمیاں بھی بڑھا دی ہیں۔ امریکی افواج ایکواڈور میں آپریشن کر چکی ہیں جبکہ میکسیکو میں بھی اسی نوعیت کی کارروائی کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے شبے میں کئی جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب کشیدگی کے باوجود بوگوٹا اور واشنگٹن کے درمیان منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات جاری ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں کولمبیا کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک نے وینزویلا کی سرحد کے قریب سرگرم کوکین اسمگلنگ میں ملوث گوریلا گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق کیا ہے۔
ادھر روس کی وزارت خارجہ نے کیوبا پر امریکی دباؤ میں اضافے سے متعلق خبروں کو “انتہائی تشویش ناک” قرار دیا ہے۔ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔