ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
لتھوانیا کی پارلیمنٹ نے ملک میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس فیصلے کے نافذ ہونے کے لیے تین ماہ کے اندر دوسرا ووٹ درکار ہے۔ کل 106 قانون سازوں نے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر آئینی پابندی ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 6 نے غیر جانبداری اختیار کی اور 18 نے مخالفت کی۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر جوزاس اولیکاس نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی ہٹانے سے سیکیورٹی کے شعبے میں وہ قانونی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں جو دیگر یورپی یونین اور نیٹو ممالک سے مختلف تھیں۔
پارلیمنٹ کے فیصلے کا مطلب ہے کہ آئین کے آرٹیکل 137 کو حذف کر دیا جائے گا، جو لتھوانیا میں جوہری ہتھیاروں سمیت تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی لگاتا ہے۔ یہی آرٹیکل ملک میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی پر بھی پابندی عائد کرتا ہے۔ ویلنیئس اس وقت امریکی اڈے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
پارلیمنٹ کو کسی بھی آئینی ترمیم پر دو ووٹ ڈالنے ہوتے ہیں جن کے درمیان تین ماہ کا وقفہ ہوتا ہے۔ ترمیم کے لیے 141 قانون سازوں کی اکثریت یعنی 94 کی حمایت درکار ہے۔ دوسرا ووٹ 12 جنوری کو ہوگا۔