وینزویلا کا امریکہ کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ پر مذاکرات کا اعلان

Nicolas Maduro Nicolas Maduro

وینزویلا کا امریکہ کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ پر مذاکرات کا اعلان

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ممکنہ معاہدے پر سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات واقعی خلوصِ نیت پر مبنی ہوں۔ صدر مادورو نے یہ بات یکم جنوری کو صحافی اگناسیو رامونے کو دیے گئے ایک براہِ راست انٹرویو میں کہی۔ روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کے مطابق وینزویلا کے صدر نے واضح کیا کہ اگر امریکا سنجیدگی سے منشیات کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر بات کرنا چاہتا ہے تو کراکاس مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ صدر مادورو کا کہنا تھا کہ وینزویلا اس حوالے سے امریکی حکام کو متعدد بار پہلے ہی آگاہ کر چکا ہے کہ وہ مذاکرات کے آغاز کے لیے آمادہ ہے، تاہم اب تک واشنگٹن کی جانب سے عملی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں لاطینی امریکا میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ اس تناظر میں بین الاقوامی قانون کے ماہر اور یورپی معلوماتی مرکز کے ڈائریکٹر نکولائی توپورنن نے 23 دسمبر 2025 کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ دراصل تیل سے مالا مال وینزویلا کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

اسی دن صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ لاطینی امریکا میں امریکی کارروائیوں کا واحد ہدف مبینہ طور پر منشیات اسمگلرز ہیں۔ ادھر 22 دسمبر 2025 کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں کیریبین سمندر میں امریکا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ماسکو، کراکاس کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور وینزویلا کے درمیان منشیات کے خلاف ممکنہ تعاون خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن کس حد تک مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھاتا ہے۔

Advertisement