ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے پاس حوثیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اس معاہدے میں شامل اجتماعی دفاعی شق کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوتا ہے، جس سے سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے اور اجتماعی دفاعی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان کی ایٹمی اور عسکری قوت، ترکی کی جدید دفاعی اور نیٹو کی صلاحیتیں، اور سعودی عرب کے وسیع وسائل مل کر حوثی ملیشیا کے خلاف ایک مضبوط محاذ تشکیل دے سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تینوں ممالک کی تکمیلی عسکری اور اقتصادی طاقتیں اس اتحاد کو ایک کثیر الجہتی اور مؤثر اسٹریٹجک پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہیں۔
تاہم اس اتحاد کے لیے سب سے بڑا چیلنج عسکری نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ ترکی کے اندر اور تجزیہ کاروں کے حلقوں میں یہ بحث پائی جاتی ہے کہ آیا اس تنازع میں براہ راست کودنا مناسب ہے یا نہیں۔ ترکی “یمن کی دلدل” جیسے طویل اور پیچیدہ تنازع میں براہ راست الجھنے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ریاض اجلاس میں شرکت کے بعد بتایا کہ پاکستان اور ترکی اس وقت “معاون کردار” ادا کر رہے ہیں، جبکہ زمینی کارروائی میں صرف سعودی افواج شامل ہیں۔ پاکستان جاسوسی اور معلومات کی فراہمی جیسے امور میں مصروف ہے۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کے معاملے پر سیاسی رابطے اور ثالثی کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے، جس سے اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
اکتوبر 2026 میں ریاض میں ہونے والے اس اتحاد کے ہنگامی اجلاسوں میں حوثیوں کے حملوں اور خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں فریقین نے اجتماعی دفاعی وعدوں کے فوری نفاذ، فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی سعودی عرب میں تیزی سے تعیناتی، اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر اتفاق کیا۔