Connect with us

انٹرنیشنل

مریم عفیفہ انصاری، ہندوستان کی پہلی مسلم نیورو سرجن

Published

on

مریم عفیفہ انصاری، ہندوستان کی پہلی مسلم نیورو سرجن

مریم عفیفہ انصاری، ہندوستان کی پہلی مسلم نیورو سرجن

دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک)
ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مریم عفیفہ انصاری نے ہندوستان کی پہلی مسلم نیوروسرجن بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ڈاکٹر مریم عفیفہ نے اپنی تعلیم کا آغاز ریاست مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر کے ایک اردو میڈیم اسکول سے کیا تھا۔ اس کے بعد وہ جنوبی شہر حیدرآباد چلی گئیں اور حیدرآباد میں بھی دسویں جماعت تک ان کی تعلیم کا میڈیم اردو ہی تھا۔ دسویں جماعت میں ڈاکٹر مریم عفیفہ نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق مریم عفیفہ انصاری نے عثمانیہ میڈیکل کالج، حیدرآباد، سے ایم بی بی ایس کیا اور اسی کالج سے جراحت یا سرجری میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران انہوں نے 5 طلائی تمغے حاصل کئے تھے۔

ڈاکٹر مریم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ڈاکٹر بننے کا ان کا خواب پورا ہوگیا ہے، میری کامیابی اللہ کا تحفہ ہے۔ مریم نے کہا کہ وہ اپنے پیشے کے ذریعے برادری کی خدمت کرنے کی کوشش کریں گی۔مسلم لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہار نہ مانیں، کبھی کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ آپ یہ نہیں کر سکتیں۔ کامیابی حاصل کرکے لڑکیوں کے بارے میں لوگوں کے خیالات غلط ثابت کردیں۔ مریم کی والدہ ٹیچر ہیں۔ انھیں اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ ڈاکٹر مریم عفیفہ کو مصوری، خطاطی اور اسلامی تعلیمات میں بھی مہارت حاصل ہے۔

انٹرنیشنل

اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں مزید 7 فلطسینی شہید

Published

on

غزہ: (صدائے روس)مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے ایک علاقے میں چھاپہ کار کارروائی کے دوران فائرنگ کرکے 7 فلسطینی نوجوانوں کو شہید کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے جیریکو کے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج نے علی الصبح چھاپہ مارا اور سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے 7 نوجوانوں کو شہید کردیا۔

اسرائیلی فوج کی اس جارحیت میں 3 فلسطینی نوجوان زخمی بھی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مسلح نوجوانوں نے 28 جنوری کو چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا جن کی گرفتاری کے لیے آج جانے والی ٹیم پر بھی فائرنگ کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دفاعی فائرنگ میں دو حملہ آوروں سمیت 7 افراد مارے گئے مارے جانے والے نوجوانوں کا تعلق حماس سے تھا اور وہ اس علاقے کے اہم عہدیدار تھے۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل کے اس اقدام کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ادھر قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے ایک اور علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران 48 سالہ خاتون کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کی جارحیت میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 43 ہوگئی جن میں 8 بچے شامل ہیں۔

Continue Reading

ٹرینڈنگ