ایران میں قتلِ عام بند، پھانسیوں پر عمل نہیں ہوگا، امریکی صدر کا دعویٰ

Trump Trump

ایران میں قتلِ عام بند، پھانسیوں پر عمل نہیں ہوگا، امریکی صدر کا دعویٰ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس مستند ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ایران میں قتلِ عام بند ہو چکا ہے اور وہاں پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔ بدھ کی شب اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران کا اس وقت سزائے موت پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ امریکی صدر نے تاہم واضح کیا کہ اگر ایران میں دوبارہ قتلِ عام شروع ہوا یا حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکہ اس پر سخت ردِعمل دے گا۔ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ مظاہرین کو پھانسی دینے کی صورت میں امریکہ ’بہت سخت کارروائی‘ کرے گا۔ اس بیان کے جواب میں ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ ادھر اسی تناظر میں امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ قطر میں واقع اپنے العدید ایئر بیس پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایک ’احتیاطی تدبیر‘ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

العدید فضائی اڈے سے بعض اہلکاروں کے انخلا سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے ریاستِ قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدامات موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔ آئی ایم او کے مطابق قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری حفاظتی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اہم تنصیبات اور فوجی سہولیات کا تحفظ بھی شامل ہے۔ قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس نے مزید کہا کہ کسی بھی نئی پیش رفت سے عوام کو باضابطہ اور مقررہ ذرائع کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔

Advertisement