ایران پر امریکی کارروائی کے دفاع میں اطالوی وزیرِاعظم کو مشکل سوالات کا سامنا
ماسکو (صداۓ روس)
جارجیا میلونی نے 8 مارچ کو ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا دفاع کرنے کی کوشش کی، تاہم میزبان نے ان کے مؤقف پر سوال اٹھا دیا۔ اطالوی ٹی وی چینل Rete 4 کو دیے گئے انٹرویو میں میلونی نے حملے کی وجہ سفارتی عمل کی ناکامی کو قرار دیا۔ اس پر پروگرام کے میزبان Mario Giordano نے ان سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا واقعی حملہ شروع ہونے کے وقت سفارت کاری کے تمام راستے بند ہو چکے تھے۔ صحافی نے پوچھا: “یعنی آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ مذاکرات اور سفارت کاری ناکام ہو چکے تھے؟ تو کیا آپ کے خیال میں حملے کے وقت سفارتی حل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی؟” اس سوال کے جواب میں اطالوی وزیرِاعظم نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی اس معاملے پر ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مبینہ طور پر امریکا کے ساتھ سفارتی عمل کو طول دے رہا تھا اور اسی وجہ سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہو گئے تھے۔ ادھر Antonio Tajani نے 5 مارچ کو پارلیمان میں خطاب کے دوران ایک دلچسپ غلطی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی “31 فروری” کو شروع ہوئی تھی، حالانکہ فروری میں 31 تاریخ موجود ہی نہیں ہوتی۔ بعد ازاں وہ اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ایک اور غلطی بھی کر گئے، جب انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق ہونا چاہیے، حالانکہ وہ دراصل ایرانی عوام کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
اس سے قبل 28 فروری کو اطالوی اخبار Il Fatto Quotidiano نے رپورٹ کیا تھا کہ اٹلی کے وزیرِ دفاع Guido Crosetto دبئی میں پھنس گئے تھے اور ایران کی جانب سے حملوں کے باعث روم واپس نہیں جا سکے تھے۔ رپورٹس کے مطابق وہ نجی دورے پر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے دبئی گئے تھے۔