ایران کے خلاف فوجی کارروائی ضرورت پڑنے تک جاری رہے گی، امریکی صدر

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اسے ضروری سمجھا جائے گا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس کارروائی کے دورانیے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں بتا سکتے، تاہم ان کے خیال میں یہ آپریشن اتنی مدت تک جاری رہ سکتا ہے جتنی اس کی ضرورت ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر ایک جیسے نہیں بھی ہو سکتے۔ صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا دونوں ممالک کے اہداف یکساں ہیں، امریکی صدر نے جواب دیا کہ ان میں کچھ فرق ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس فرق کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے دوران تہران سمیت ایران کے کئی بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس حملے کو ایران کی جانب سے مبینہ میزائل اور جوہری خطرات کا جواز پیش کرتے ہوئے درست قرار دیا تھا۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کی۔ اس کے علاوہ بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے گئے۔

مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اہم ایرانی رہنماؤں کے مارے جانے کی بھی اطلاع دی گئی۔ بعد ازاں اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس خبرگان نے مقتول رہنما کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔