ماسکو (صدائے روس) روسی فیڈریشن کی وزارتِ خارجہ میں خصوصی ذمہ داریوں کے حامل سفیر روڈیون وی میروش نِک نے ایک بریفنگ کے دوران 2025 میں کیف حکومت کے مبینہ مجرمانہ اقدامات سے متعلق حتمی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیے، جن میں پاکستانی صحافی اور صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کے سوالات بھی شامل تھے۔ ان سوالات میں رپورٹ کی قانونی اہمیت، بین الاقوامی عدالتی فورمز کے امکانات، ’’ہم الزام عائد کرتے ہیں‘‘ مہم اور عالمی ردِعمل جیسے موضوعات شامل تھے۔
اشتیاق ہمدانی نے سوال کیا کہ روسی وزارتِ خارجہ کو ’’ہم الزام عائد کرتے ہیں‘‘ نامی مہم کے تحت پیش کیے گئے مواد پر عالمی اداروں سے کس نوعیت کے ردِعمل کی توقع ہے اور ان مواد کی ترسیل میں میڈیا کا کیا کردار ہے۔
اس پر روڈیون میروش نِک نے کہا کہ روس ایسی عالمی ناظرین کو مخاطب کر رہا ہے جو حقائق کو قبول کرنے اور ’’سچ کی بنیاد پر‘‘ اپنی رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہیں، بالخصوص کیف حکومت کے ان اقدامات کے حوالے سے جنہیں روس ایک مجرمانہ طرزِ عمل قرار دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روس بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ان مواد کو فعال انداز میں پیش کر رہا ہے اور مختلف ممالک سے قابلِ ذکر ردِعمل موصول ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر ریاستوں میں صورتحال کے بارے میں زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ مؤقف تشکیل پا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ’’ہم الزام عائد کرتے ہیں‘‘ مہم روسی اشاعتی ادارے ’’نئے روسی علاقے‘‘ اور روسی وزارتِ خارجہ کے خصوصی سفیر روڈیون میروش نِک کی جانب سے، روس پیٹریاٹک سینٹر کے تعاون سے شروع کیا گیا۔ اس منصوبے کی بنیاد روسی فوٹو جرنلسٹس کی جانب سے ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ، خیرسون، روستوف، کرسک اور بیلگورود کے علاقوں میں بنائی گئی دستاویزی تصاویر پر ہے۔

منصوبے کا مقصد کیف حکومت کی جانب سے شہری آبادی کے خلاف کیے گئے مبینہ مظالم کو بصری شواہد کے ساتھ پیش کرنا، روسی عوام اور عالمی برادری کو ان واقعات سے آگاہ کرنا اور موجودہ دور کے حالات کی سچائی کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہے۔
بریفنگ کے دوران سفیرمیروش نِک نے وضاحت کی کہ رپورٹ میں شامل مواد کے قانونی اور تفتیشی پہلوؤں پر عملی کام روسی فیڈریشن کی تحقیقاتی کمیٹی اور دیگر تفتیشی ادارے انجام دے رہے ہیں، جہاں تحقیقات کی گہرائی اور شواہد کی جانچ کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق روس میں عدالتی نظائر پہلے ہی قائم ہو چکے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ میروش نِک نے بتایا کہ اب تک 1078 یوکرینی جنگجوؤں کے خلاف روسی عدالتیں سزا کے فیصلے سنا چکی ہیں۔ ان کے مطابق کم از کم سزا کی مدت 8.5 سال رہی، جبکہ زیادہ تر مقدمات میں سزائیں 15، 20، 25 سال اور بعض کیسز میں عمر قید تک دی گئی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مقدمات میں روسی دائرۂ اختیار کو بنیادی حیثیت اس لیے حاصل ہے کیونکہ جن جرائم کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے وہ روسی فیڈریشن کے دائرۂ اختیار میں آنے والے علاقوں میں سرزد ہوئے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ فیصلے روسی عدالتوں میں اور روسی قانونی نظام کے تحت دیے جا رہے ہیں۔ میروش نِک نے اس طریقۂ کار کو ان افراد کو جواب دہ بنانے کا سب سے مؤثر راستہ قرار دیا جنہوں نے تنازع کے دوران جرائم کا ارتکاب کیا، بالخصوص ان علاقوں میں جنہیں روس آئینی طور پر اپنی سرزمین تصور کرتا ہے۔
بین الاقوامی تحقیقات کے امکان پر بات کرتے ہوئے سفیر نے موجودہ عالمی سیاسی و قانونی صورتحال کا حوالہ دیا اور کہا کہ روس کو بعض ممالک کی جانب سے ایسی روش کا سامنا ہے جسے انہوں نے ’’بین الاقوامی قانونی جارحیت‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ وہ ممالک ہیں جنہیں روس کیف حکومت کے سرپرست، مالی معاون اور سیاسی حامی سمجھتا ہے۔ ایسے میں، ان کے بقول، ان ریاستوں سے اپنے کردار کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
میروش نِک نے کہا کہ روس ان ممالک پر انحصار کر رہا ہے جو حالات کا تجزیہ تعصب کے بغیر کرنے اور پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا مؤقف عالمی اداروں میں بیانات اور ووٹنگ کے عمل کے ذریعے بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں میروش نِک نے کہا کہ روس ایسی عالمی ناظرین کو مخاطب کر رہا ہے جو حقائق کو قبول کرنے اور ’’سچ کی بنیاد پر‘‘ اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کیف حکومت کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کے نزدیک یہ حکومت ریاستی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار میں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داری صرف براہِ راست کارروائی کرنے والوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان ریاستوں پر بھی عائد ہونی چاہیے جو روسی مؤقف کے مطابق اس نظام کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روس یہ مواد مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پیش کر رہا ہے اور اس عمل میں سفارتی مشنز، نمائندے اور بین الاقوامی تنظیموں میں کام کرنے والی روسی وفود شامل ہیں۔ ان کے مطابق پیش کیے گئے مواد پر بڑی تعداد میں ردِعمل موصول ہو رہا ہے، جو دیگر ممالک کو صورتحال کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ مؤقف اپنانے میں مدد دے رہا ہے۔
میروش نِک نے بعض بین الاقوامی تنظیموں کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کچھ کو غیر جانب دار پلیٹ فارم قرار دینا مشکل ہے، کیونکہ ان پر مغربی نقطۂ نظر کا غلبہ ہے اور یوکرینی نمائندوں کے بیانات کو اکثر بغیر تنقیدی جانچ کے قبول کر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس ان حلقوں تک معلومات پہنچانے کا عمل جاری رکھے گا جو سچ سننے اور حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، اور ساتھ ہی بین الاقوامی انسانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق مواد کو زیادہ مؤثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جاتا رہے گا۔