دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا، پنجاب میں تاریخی نقل مکانی
اسلام آباد(صداۓ روس)
دریائے راوی میں دو لاکھ کیوسک سے زیادہ کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جس سے نشیبی علاقوں میں شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ پنجاب میں 39 سال بعد آنے والے بدترین سیلاب نے دیہات، قصبوں اور شہروں کو دریا کا منظر دے دیا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنے آشیانے چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ کہیں ڈوبے ہوئے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لی جا رہی ہے، تو کہیں متاثرین سیلابی ریلوں سے بچنے کے لیے اپنی باقی ماندہ جمع پونجی سمیٹ کر محفوظ مقامات کی طرف نکل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پنجاب اس وقت تاریخی نقل مکانی کا سامنا کر رہا ہے۔
سیلاب نے وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاوالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت درجنوں علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے اور متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق پاک فوج، رینجرز اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے ریلیف اور ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔