ماسکو (صدائے روس)
Dominican Republic کے 182ویں یومِ آزادی کے موقع پر ماسکو میں ایک شاندار اور باوقار سفارتی ضیافت کا انعقاد کیا گیا، جس میں سفارتی برادری، روسی حکام، کاروباری شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا اہتمام ڈومینیکن ریپبلک کے سفارت خانے کی جانب سے کیا گیا، جو باہمی احترام اور سفارتی روابط کے فروغ کی عمدہ مثال ثابت ہوئی۔
تقریب کا آغاز دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا۔ بعد ازاں ڈومینیکن ریپبلک کے سفیر Alejandro Arias Zarzuela نے استقبالیہ خطاب میں 27 فروری 1844 کی تاریخی جدوجہد آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اسے قومی عزم، خودمختاری اور جمہوری اقدار کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تجارت، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
روسی وزارتِ خارجہ کی نمائندگی کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ Sergey Ryabkov نے ڈومینیکن ریپبلک کو نیشنل ڈے کی مبارکباد پیش کی اور لاطینی امریکہ و کیریبین ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے کے روسی عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیر خارجہ Sergey Lavrov کی نیک تمناؤں کا حوالہ دیتے ہوئے دوطرفہ روابط کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
تقریب میں ڈومینیکن ثقافت کی دلکش جھلک پیش کی گئی، جہاں روایتی موسیقی اور رقص نے حاضرین کو مسحور کیے رکھا۔ مہمانوں کی تواضع کیریبین کھانوں اور مشروبات سے کی گئی، جس سے ڈومینیکن تہذیب کی رنگینی نمایاں نظر آئی۔
ضیافت کے دوران صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے سفیر الیخاندرو آریاس زارزوئیلا کو دلی مبارکباد پیش کی اور نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف سے مختصر مگر خوشگوار ملاقات بھی کی۔
اسی موقع پر مختلف ممالک کے سفیروں سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ روس میں متعین سری لنکا کی سفیر Shobini Gunasekera سے گفتگو میں کرکٹ ورلڈکپ، جنوبی ایشیا میں اسپورٹس ڈپلومیسی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان اور سری لنکا کی قومی ٹیموں کی حالیہ کارکردگی پر دوستانہ انداز میں رائے کا اظہار بھی ہوا۔
افریقی خطے کے حوالے سے جمہوریہ سوڈان کے سفیر Mohamed Elghazali Eltijani Sirraj اور جمہوریہ برونڈی کے سفیر Joseph Nkurunziza سے سیاسی پیش رفت اور باہمی روابط پر گفتگو ہوئی۔ اسی طرح فلسطین کے سفیر Abdel Hafiz Nofal اور اردن کے سفیر Khalid Abdullah Shawabkeh سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور سفارتی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ سفارتی ضیافت مختلف خطوں کے نمائندگان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا مؤثر ذریعہ بنی، جہاں عالمی امور، علاقائی استحکام اور مستقبل کے تعاون پر سنجیدہ اور مثبت گفتگو دیکھنے میں آئی۔ تقریب خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جبکہ شرکاء نے ڈومینیکن عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔