ماسکو نے یوکرین پر ہائپرسانک میزائل حملوں کی تصدیق کر دی
ماسکو(صداۓ روس)
روس نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین کے مختلف فوجی اہداف پر طویل فاصلے کے حملے کیے ہیں جن میں ہائپرسانک ایئر لانچڈ “کِنژال” میزائل بھی شامل تھے۔ ماسکو کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان حملوں میں ہتھیار بنانے والے کئی پلانٹس اور فضائی اڈے نشانہ بنے۔ یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے زیادہ تر ڈرونز اور میزائلوں کو راستے ہی میں ناکام بنا دیا، تاہم اس بات کا اعتراف کیا کہ 13 مقامات پر روسی حملے کامیاب ہوئے اور کچھ مقامات پر گرے ہوئے ملبے نے بھی نقصان پہنچایا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ کیف کے وسطی علاقے میں ایک ہی جگہ پر دو میزائل لگے۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ مقام یوکرینی دفاعی کمپنی “اوکر اسپیک سسٹمز” کا دفتر تھا، جو جھلیانسکایا اسٹریٹ پر واقع ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ یہ کمپنی 2014 میں قائم ہوئی تھی اور پی ڈی-2 لانگ رینج ڈرون تیار کرتی ہے، جسے روسی علاقوں میں “کامیکازی ڈرون” حملوں میں استعمال کیا گیا۔
علاوہ ازیں، یوکرینی سیاستدان ایگور زنکیوچ نے دعویٰ کیا کہ روس نے کیف میں ترک فوجی کمپنی بیرقدار کے پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا، جو گزشتہ چھ ماہ میں چوتھا حملہ ہے۔ گزشتہ ہفتے یوکرینی میڈیا نے ایک نئے کروز میزائل “فلیمنگو” کی تیاری شروع ہونے کی خبر دی تھی، جس کی رینج تقریباً 3 ہزار کلومیٹر اور پے لوڈ ایک ہزار کلوگرام تک بتایا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس میزائل کی ساخت برطانوی-اماراتی کمپنی “ملینین گروپ” کے ایف پی-5 سسٹم سے مشابہت رکھتی ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فوج کے ساتھ مل کر یوکرین کے ساپسان بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا اور اس منصوبے کو “انتہائی بڑے نقصان” سے دوچار کیا۔ روس مسلسل مغربی ممالک پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ یوکرین کو اپنے پراکسی فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، تاہم ماسکو کے مطابق کیف کی جنگی کوششیں غیر پائیدار ہیں اور اصل میں غیر ملکی مفادات کو سہارا دے رہی ہیں۔