ماسکو۔اسلام آباد فورم: زرعی تعاون، دفاعی روابط اور تاریخی دورے پر زور

Faisal Niaz Tirmizi Faisal Niaz Tirmizi

ماسکو۔اسلام آباد فورم: زرعی تعاون، دفاعی روابط اور تاریخی دورے پر زور

ماسکو (اشتیاق ہمدانی)
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ماسکو۔اسلام آباد فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی خودمختاری اور غذائی تحفظ کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں، کیونکہ “افواج ہی نہیں، ممالک بھی اپنے پیٹ کے بل جنگ جیتتے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی خواہش ہے کہ روس پاکستان کی غذائی سلامتی میں مؤثر کردار ادا کرے اور پاکستان بھی روس کی فوڈ سکیورٹی کا شراکت دار بنے۔ فیصل نیاز ترمذی نے روس کی زرعی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں میں روس نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک وقت تھا جب روس گندم اور گوشت کی بڑی مقدار درآمد کرتا تھا، جبکہ آج وہ ان اشیاء کا خالص برآمد کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی زرعی شعبے میں اصلاحات اور خودکفالت کی جانب گامزن ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی زرعی ماہرین اور ویٹرنری ماہرین روس کا دورہ کریں گے اور روسی ماہرین پاکستان میں تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کے متوقع دورۂ روس کے دوران کریملن میں پانچ معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے، جن میں سب سے اہم ری ایڈمیشن معاہدہ ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ویزا امور میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی۔ مزید برآں 2026 سے آگے کے لیے تجارتی روڈ میپ اور ثقافتی تعاون کے معاہدے بھی طے پائے ہیں۔

ثقافتی روابط پر زور دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ روس اور پاکستان دونوں عظیم دریائی تہذیبوں کے وارث ہیں—روس دریائے وولگا اور ماسکو کے کنارے پروان چڑھا جبکہ پاکستان وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کا امین ہے، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں روس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فاشزم اور نازی ازم کے خلاف جنگ میں 2 کروڑ 50 لاکھ جانوں کی قربانی تاریخ کا اہم باب ہے۔ اس دور میں برطانوی ہند کی فوج کا بڑا حصہ ان علاقوں سے تعلق رکھتا تھا جو آج پاکستان کا حصہ ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔ سفیر ترمذی نے دفاعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2015 سے پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں باقاعدگی سے منعقد ہو رہی ہیں، ایک سال روس میں اور اگلے سال پاکستان میں۔ روسی بحریہ پاکستان میں ہونے والی مشقوں میں شرکت کرتی ہے جبکہ پاکستانی بحریہ بھی روس کے ساتھ مشترکہ سرگرمیوں میں شامل ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان کریملن میں طویل ملاقات متوقع ہے، جو تین گھنٹے سے زائد جاری رہ سکتی ہے۔ اس موقع پر سات اہم دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے جبکہ دو معاہدے پاکستان۔روس بزنس فورم میں طے پائیں گے۔

خطاب کے اختتام پر سفیر نے کہا کہ یہ دور یوریشیا اور ایشیا کا دور ہے اور خطے کے ممالک اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پائیدار امن خطے کے وسیع تر رابطوں اور یوریشیائی تعاون کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور پاکستان جغرافیہ، تاریخ، ثقافت، زبان اور روایات میں گہری مماثلت رکھتے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ اس تعلق کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے۔