ماسکو (صداۓ روس)
روس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام عالمی جوہری اور خلائی سلامتی کے موجودہ نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کو ماسکو میں منعقدہ جوہری عدم پھیلاؤ کانفرنس سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں کے باعث خلا کی عسکریت میں اضافہ اور اسے ممکنہ تنازعے کے میدان میں تبدیل کیے جانے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ امریکی منصوبہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ پہلی بار جنوری 2025 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بیلسٹک، ہائپرسونک اور کروز میزائلوں کے خلاف کثیر سطحی دفاعی نظام قائم کرنا ہے، جس میں خلا میں موجود انٹرسیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو لانچ کے ابتدائی مرحلے میں تباہ کرنے کی صلاحیت شامل ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے اندازوں کے مطابق اس منصوبے کی لاگت تقریباً 175 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، تاہم بعض دیگر اندازوں میں اسے کہیں زیادہ مہنگا قرار دیا گیا ہے اور اس کی لاگت 20 سال کے دوران 500 ارب ڈالر سے لے کر 3.6 کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ گولڈن ڈوم پروگرام، جسے 2028 تک فعال بنانے کا منصوبہ ہے، اسٹریٹیجک استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے منصوبے عالمی توازنِ طاقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل مئی 2025 میں روس اور چین نے مشترکہ طور پر خبردار کیا تھا کہ گولڈن ڈوم نظام امریکہ کو ممکنہ جوہری تنازعے کی صورت میں مخالف فریق کے جوابی حملے کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کار اس منصوبے کی عملی افادیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق خلا میں تعینات انٹرسیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو انتہائی مختصر وقت میں تباہ کرنا تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ ہے اور اس کے لیے سینسر نظام اور مصنوعی ذہانت میں بڑی پیش رفت درکار ہوگی۔ یہ منصوبہ ماضی میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کے 1983 کے اسٹریٹیجک ڈیفنس انیشی ایٹو سے مشابہت رکھتا ہے، جسے عام طور پر ’’اسٹار وارز پروگرام‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس منصوبے پر تقریباً 50 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے، تاہم بھاری اخراجات اور تکنیکی مشکلات کے باعث اسے ایک دہائی بعد ترک کر دیا گیا۔ اس وقت سوویت یونین نے اس منصوبے کو ممکنہ ’’پہلے حملے‘‘ کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے اپنے خلائی دفاعی پروگرام کو تیز کر دیا تھا، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار سوویت معیشت پر مزید دباؤ پڑا تھا۔