ماسکو کا سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ ’’اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کا عزم

Maria Zakharova Maria Zakharova

ماسکو کا سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ ’’اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کا عزم

ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ نے معروف صحافی ولادیمیر سولوویوف کے حالیہ متنازع بیانات سے خود کو الگ کرتے ہوئے سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ ’’برادرانہ دوستی اور تعاون‘‘ پر مبنی تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ماسکو خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور باہمی احترام پر مبنی روابط کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد سمجھتا ہے۔ یہ تنازع 10 جنوری کو سولوویوف کے نجی چینل ’’سولوویوف لائیو‘‘ پر نشر ہونے والے ایک پروگرام کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ روس کو بھی امریکہ کی طرح اپنی ’’زون آف انفلوئنس‘‘ واضح طور پر متعین کرنی چاہیے۔ سولوویوف نے یوکرین میں جاری فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روس اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے اسی منطق کے تحت دیگر ممالک میں بھی کارروائی کر سکتا ہے۔

ان کے ان بیانات پر آرمینیا کی وزارت خارجہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری پر ’’ناقابل قبول حملہ‘‘ قرار دیا۔ اسی طرح کرغزستان میں رکنِ پارلیمنٹ داستان بیکیشیف نے مطالبہ کیا کہ سولوویوف کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جائے۔ روسی وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ سولوویوف کے خیالات ان کی ذاتی رائے ہیں اور ان کا روسی ریاستی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ وزارت کے مطابق روس سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ دوستانہ، مساوی اور تعمیری تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا خودمختاری کی خلاف ورزی کی حمایت نہیں کرتا۔

Advertisement