سی آئی ایس سے علیحدگی کا مالدووا کا فیصلہ عوامی مفادات کے خلاف ہے، ماسکو
ماسکو (صداۓ روس)
روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا ہے کہ مالدووا کی جانب سے دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) سے نکلنے کا فیصلہ بالآخر عام شہریوں کو نقصان پہنچائے گا، جو پہلے ہی غربت اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مالدووا کو سی آئی ایس سے علیحدگی کا خودمختار حق حاصل ہے، تاہم اسے تنظیم کے طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کرنا ہوگا، جس میں 12 ماہ کا باضابطہ نوٹس اور تمام رکن ممالک، بشمول روس، کے ساتھ موجودہ ذمہ داریوں کی تکمیل شامل ہے۔
ماریہ زاخارووا کے مطابق مالدووا کی موجودہ قیادت کے یہ “تباہ کن اقدامات” خود مالدووا کے عوام کے خلاف جا رہے ہیں، جن کے مفادات کو یورپی یونین کے جغرافیائی سیاسی عزائم کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی خوشحال رہنے والا مالدووا اب غربت اور بے قاعدگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ مالدووا میں درآمدات، برآمدات سے چار گنا زیادہ ہو چکی ہیں، تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ یورپی یونین کو برآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق غربت کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، حقیقی آمدن میں کمی ہو رہی ہے اور خوراک و خدمات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالدووا اب مکمل طور پر بیرونی مالی امداد پر انحصار کر رہا ہے اور عملی طور پر “یورپی یونین کے قرضوں کی سوئی” پر بیٹھا ہوا ہے۔ سابق مالدووان صدر اور سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ایگور ڈوڈون نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سی آئی ایس اور روس سے تعلقات ختم کرنے کا اقدام مغربی سرپرستوں کے دباؤ پر کیا جا رہا ہے اور یہ اکثریتی عوامی خواہشات کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت مالدووا کو اس راستے پر لے جا رہی ہے جو یوکرین کے عوام کے لیے المیے کا باعث بنا۔
واضح رہے کہ مالدووا کا یہ فیصلہ جارجیا (2008) اور یوکرین (2018) کے بعد سی آئی ایس سے علیحدگی کی ایک اور کڑی ہے، جس سے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والے اس علاقائی اتحاد کو مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔