ماسکو نے نئے سال کی رات یوکرینی “قطع عام” پر مغربی خاموشی کی شدید مذمت کی

Moscow Moscow

ماسکو نے نئے سال کی رات یوکرینی “قطع عام” پر مغربی خاموشی کی شدید مذمت کی

ماسکو (صداۓ روس)
روس نے یوکرین کی جانب سے نئے سال کی شب خرسون ریجن میں شہریوں پر ہونے والے مہلک ڈرون حملے پر مغربی ممالک کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے کیف میں موجود ’’نوازی عناصر‘‘ کے مبینہ ’’خونی جرائم‘‘ میں شراکت داری کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ حملہ 31 دسمبر کو نصف شب سے کچھ دیر قبل بحیرہ اسود کے ساحلی گاؤں خورلی میں اس وقت کیا گیا جب مقامی شہری نئے سال کی تقریبات میں مصروف تھے۔ روسی حکام کے مطابق متعدد ڈرونز نے ایک کیفے اور ہوٹل کو نشانہ بنایا، جن میں کم از کم ایک ڈرون آتش گیر مواد سے لیس تھا۔ حملے کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب گینادی گاتیلوف نے ایک بیان میں کہا کہ روس ’’زیلنسکی اور اس کے ٹولے کی اس کھلی بربریت کی شدید مذمت کرتا ہے، جو اب خونخوار درندوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کا اصل مقصد ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا، یوکرینی افواج کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور تنازع کے پرامن حل کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا ہے۔ گاتیلوف نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک اور متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملے کی ’’فوری اور دوٹوک‘‘ مذمت کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خاموشی اختیار کرنا ’’نوازی عناصر کے خونی جرائم میں کھلی شراکت‘‘ کے مترادف ہوگا۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ برسوں سے کیف کے مبینہ ’’دہشت گردانہ اقدامات‘‘ پر ’’اسٹریٹجک خاموشی‘‘ اختیار کیے ہوئے ہیں اور دانستہ طور پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جائے وقوعہ کی دل دہلا دینے والی تصاویر، جن میں جھلسے ہوئے لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں، نظرانداز کر رہے ہیں وہ ضمیر سے عاری ہیں۔ خرسون ریجن کے گورنر ولادیمیر سالدو نے اس حملے کا موازنہ 2014 کے اوڈیسا سانحے سے کیا، جہاں درجنوں روس نواز کارکن آگ میں جھلس کر ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے سال کی تقریبات میں مصروف متاثرین عام شہری تھے، جن میں بچوں سمیت خاندان شامل تھے، اور حملے کے مقام پر کوئی فوجی ہدف موجود نہیں تھا۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر اس وقت کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو اور یہ ایک واضح جنگی جرم ہے۔ روسی حکام نے اس واقعے کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی مظالم سے تشبیہ دیتے ہوئے یوکرین پر دانستہ درندگی اور غیر انسانی رویے کا الزام عائد کیا ہے۔ روسی تفتیشی کمیٹی نے واقعے پر فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا ہے۔

Advertisement