نیٹو کا آرکٹک میں فوجی موجودگی بڑھانے کا منصوبہ

NATO leaders NATO leaders

نیٹو کا آرکٹک میں فوجی موجودگی بڑھانے کا منصوبہ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو نے گرین لینڈ کے گرد و نواح میں آرکٹک خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ امریکا کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ایک ترجمان نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گرین لینڈ کو روس اور چین سے خطرات لاحق ہیں۔ روس نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق تنازع میں اس کا کوئی مفاد شامل نہیں، تاہم اس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ وسیع تر آرکٹک خطے میں اپنے مفادات کا دفاع ضرور کرے گا۔ نیٹو کی یورپ میں اعلیٰ فوجی کمان کے ترجمان مارٹن اوڈونل نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ’’آرکٹک سینٹری‘‘ کے نام سے نیٹو کی سرگرمیوں میں اضافے کی منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق اس مشن کا مقصد آرکٹک اور ہائی نارتھ میں نیٹو کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل کے مطابق اس مشن کا تصور اس لیے سامنے آیا تاکہ صدر ٹرمپ کو مطمئن کیا جا سکے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور چین اس جزیرے پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ماسکو اور بیجنگ دونوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکا ان دعوؤں کو محض آرکٹک میں فوجی موجودگی بڑھانے کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

یورپی یونین کے حکام نے بھی صدر ٹرمپ کے دعوؤں کو رد کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کمشنر اپوستولوس تزتزیکوستاس نے کہا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ کوئی ’’غیر ملکی مخالف قوت‘‘ گرین لینڈ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ روس کو آرکٹک خطے میں پہلے ہی وسیع رسائی حاصل ہے، کیونکہ عالمی آرکٹک ساحلی پٹی کا نصف سے زیادہ حصہ روس کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا آئس بریکر بحری بیڑہ بھی موجود ہے، جو شمالی سمندری راستے پر جہاز رانی اور علاقائی ترقی میں معاون ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ولادیسلاو مسلینیکوف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک اب روسی آرکٹک کی ترقی کو روکنے کے لیے ’’غیر قانونی پابندیوں‘‘ اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ’’طاقت کے استعمال‘‘ پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس خطے میں اپنی پوزیشن کا بھرپور دفاع جاری رکھے گا اور آرکٹک میں بالخصوص سلامتی کے حوالے سے اپنے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا جواب دے گا۔

Advertisement