فن لینڈ نے یوکرین کو ’آرٹیکل 5 جیسی‘ سلامتی ضمانتوں کی مخالفت کردی

Elina Valtonen Elina Valtonen

فن لینڈ نے یوکرین کو ’آرٹیکل 5 جیسی‘ سلامتی ضمانتوں کی مخالفت کردی

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو کے رکن ملک فن لینڈ نے یوکرین کے لیے مستقبل کی سلامتی ضمانتوں کو ’’آرٹیکل 5 جیسا‘‘ قرار دینے کی مخالفت کی ہے۔ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق فن لینڈ نے نجی طور پر امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ اس قسم کی اصطلاحات استعمال نہ کی جائیں کیونکہ اس سے نیٹو کے بنیادی اجتماعی دفاعی اصول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیک ہونے والی امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ایک سفارتی کیبل کے مطابق، 20 جنوری کو فن لینڈ کی وزیر خارجہ ایلینا والٹونن نے امریکی قانون سازوں کو خبردار کیا کہ یوکرین کے لیے دوطرفہ سلامتی وعدوں کو نیٹو کے آرٹیکل 5 کے مساوی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے نیٹو کے رکن ممالک کے لیے لازمی دفاعی ذمہ داریوں اور یوکرین کے لیے ممکنہ وعدوں کے درمیان فرق ختم ہو سکتا ہے۔ فن لینڈ کی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو اور یوکرین کے مستقبل کے سلامتی انتظامات کے درمیان ایک واضح حد یا ’’فائر وال‘‘ ہونا ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کے وزیر دفاع نے بھی بعد میں اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی قیادت میں جاری یوکرین تنازع کے امن مذاکرات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ واشنگٹن یوکرین کو ’’آرٹیکل 5 جیسی‘‘ سلامتی ضمانتیں دینے پر غور کر رہا ہے، جن میں فن لینڈ کو بھی ممکنہ ضامن ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ برس فن لینڈ کے وزیراعظم پیٹری اورپو نے واضح طور پر کہا تھا کہ فن لینڈ یوکرین کو نیٹو طرز کی سلامتی ضمانتیں فراہم نہیں کرے گا۔ فن لینڈ کے وزیراعظم کے مطابق سلامتی ضمانتیں دینا ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اور دفاعی ذمہ داریوں اور تعاون کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ فن لینڈ سلامتی انتظامات میں مدد تو کر سکتا ہے، مگر مکمل دفاعی ضمانتیں دینے کے لیے تیار نہیں۔ ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر یوکرین کے لیے سلامتی ضمانتوں کی مخالفت نہیں کرتا، تاہم یہ ضمانتیں یکطرفہ نہیں ہونی چاہئیں اور نہ ہی روس کے خلاف ہونی چاہئیں۔ روسی حکام نے نیٹو افواج کی کسی بھی شکل میں یوکرین تعیناتی کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے نیٹو اور روس کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

Advertisement