روس ، بیلاروس سرحدوں پر نیٹو کی سرگرمیاں فوجی تصادم کا خطرہ رکھتی ہیں، یولیا
ماسکو (صداۓ روس)
روس نے خبردار کیا ہے کہ روس۔بیلاروس یونین اسٹیٹ کی سرحدوں کے قریب نیٹو کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں، جو بالآخر براہِ راست فوجی تصادم کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ بات ویانا میں فوجی سلامتی اور اسلحہ کنٹرول سے متعلق مذاکرات میں روسی وفد کی سربراہ یولیا ژدانوفا نے روسی خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں کہی۔ یولیا ژدانوفا کے مطابق نیٹو ممالک کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت اور مشقوں میں اضافہ ایسے خطرناک واقعات کا سبب بن سکتا ہے جو بتدریج کشیدگی بڑھاتے ہوئے روس اور نیٹو کے درمیان براہِ راست تصادم تک جا سکتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول حیران کن طور پر بیشتر مغربی ممالک ایسی کسی بھی سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار نہیں جو ان سرگرمیوں کے ممکنہ منفی نتائج کو کم کرنے میں مدد دے سکے۔
انہوں نے پولینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ روسی وزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے پولینڈ میں مبینہ طور پر گرنے والے روسی ڈرون کے معاملے پر ماہرین کی سطح پر مشاورت کی پیشکش کے باوجود وارسا کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ ژدانوفا کے مطابق او ایس سی ای کے ایک فورم پر بھی پولینڈ نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا جبکہ نیٹو اور یورپی یونین کے اتحادیوں نے پیشہ ورانہ بات چیت سے انکار کا پیغام دیا۔
روسی مندوبہ نے مزید کہا کہ یورپ میں کئی سیاسی حلقے مبینہ روسی خطرے کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ نیٹو اور یورپی یونین کو یوکرین کی مسلسل فوجی مدد اور روس کے خلاف پابندیوں پر متحد رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی یورپ کی موجودہ روس مخالف اشرافیہ کے لیے سیاسی بقا کی ضمانت بن چکی ہے۔