نوراڈ کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، امریکی فوجی اڈے پر تعیناتی کا اعلان

F-16 F-16

نوراڈ کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، امریکی فوجی اڈے پر تعیناتی کا اعلان

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
شمالی امریکا کے مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈ نوراڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے کئی فوجی طیارے جلد ہی گرین لینڈ میں واقع امریکی فوجی اڈے پیٹوفک اسپیس بیس پہنچیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے سے متعلق بیانات اور دھمکیوں کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ نوراڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی سرزمین اور کینیڈا میں موجود فضائی اڈوں سے آپریٹ کرنے والے طیاروں کے ساتھ مل کر یہ جہاز پہلے سے طے شدہ نوراڈ سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ بیان کے مطابق یہ سرگرمیاں امریکا، کینیڈا اور مملکتِ ڈنمارک کے درمیان دیرینہ دفاعی تعاون کا تسلسل ہیں۔
نوراڈ کا کہنا ہے کہ اس تمام فوجی نقل و حرکت کو مملکتِ ڈنمارک کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے اور تمام معاون افواج ضروری سفارتی اجازت ناموں کے تحت کام کر رہی ہیں۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حکومتِ گرین لینڈ کو ان مجوزہ سرگرمیوں سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ کی “مکمل اور حتمی خریداری” پر اتفاق نہ ہوا تو امریکا یکم فروری سے برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک، نیدرلینڈز، ناروے، فن لینڈ، فرانس اور سویڈن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جو یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ گرین لینڈ ایک خود مختار علاقہ ہے جو ڈنمارک کا حصہ ہے۔ سن 1951 میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا نے جزیرے کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ نوراڈ معاہدہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان 1958 میں طے پایا، جس کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائل حملوں کی بروقت نشاندہی اور فضائی حدود کے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

Advertisement