ایٹمی سائنس دانوں نے ’’قیامت کی گھڑی‘‘ کو تاریخ میں پہلی بار آدھی رات کے سب سے قریب کر دیا

Russia's ballistic missile Russia's ballistic missile

ایٹمی سائنس دانوں نے ’’قیامت کی گھڑی‘‘ کو تاریخ میں پہلی بار آدھی رات کے سب سے قریب کر دیا

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایٹمی سائنس دانوں نے منگل کے روز ’’قیامت کی گھڑی‘‘ (Doomsday Clock) کو تاریخ میں پہلی بار آدھی رات کے سب سے قریب کر دیا، جس کی بنیادی وجوہات میں روس، چین اور امریکہ جیسے ایٹمی طاقتوں کا جارحانہ رویہ، جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدوں کا کمزور ہونا، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ خدشات شامل ہیں۔ بلٹن آف دی ایٹامک سائنسٹس نے گھڑی کو آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈ پہلے مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چار سیکنڈ مزید قریب ہے۔ شکاگو میں قائم یہ غیر منافع بخش ادارہ 1947 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سرد جنگ کے ماحول میں قائم کیا گیا تھا، تاکہ انسانیت کو یہ خبردار کیا جا سکے کہ دنیا اپنی تباہی کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔

سائنس دانوں نے خاص طور پر فوجی نظاموں میں مصنوعی ذہانت کے غیر منظم استعمال، حیاتیاتی خطرات کی تیاری میں اس کے ممکنہ غلط استعمال اور عالمی سطح پر غلط معلومات کے پھیلاؤ میں اے آئی کے کردار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کو بھی ایک مسلسل اور سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

Advertisement

بلٹن آف دی ایٹامک سائنسٹس کی صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایٹمی پالیسی کی ماہر الیگزینڈرا بیل نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’قیامت کی گھڑی دراصل عالمی خطرات کی عکاسی کرتی ہے، اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ قیادت کی عالمی ناکامی ہے۔ چاہے کوئی بھی حکومت ہو، نوآبادیاتی سوچ اور آمرانہ طرزِ حکمرانی دنیا کو مزید تباہی کے قریب لے جا رہا ہے۔‘‘

گزشتہ چار برسوں میں یہ تیسری مرتبہ ہے کہ سائنس دانوں نے گھڑی کو آدھی رات کے مزید قریب کیا ہے۔ الیگزینڈرا بیل کے مطابق 2025 میں جوہری خطرات کے حوالے سے کوئی بھی پیش رفت مثبت سمت میں نہیں گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی فریم ورک کمزور یا ختم ہو رہے ہیں، ایٹمی تجربات کا خطرہ دوبارہ ابھر رہا ہے، جوہری پھیلاؤ کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور دنیا میں تین ایسے فوجی آپریشن جاری ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے سائے تلے ہو رہے ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافے کا خطرہ انتہائی بلند سطح پر ہے۔

انہوں نے روس کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری، بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں، جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی، چین کی جانب سے تائیوان کے خلاف دھمکیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد مغربی نصف کرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی حوالہ دیا۔

امریکہ اور روس کے درمیان آخری جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کا معاہدہ ’’نیو اسٹارٹ‘‘ 5 فروری کو ختم ہو رہا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ ستمبر میں تجویز دی تھی کہ دونوں ممالک ایک سال کے لیے اس معاہدے کی شرائط پر عمل جاری رکھیں، جس کے تحت ہر ملک کو 1,550 تعینات ایٹمی وار ہیڈز تک محدود رکھا گیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے تاحال اس پیشکش پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ مغربی دفاعی ماہرین اس تجویز کو قبول کرنے کے حوالے سے منقسم ہیں۔

الیگزینڈرا بیل کے مطابق اگر دنیا دوبارہ بڑے پیمانے پر ایٹمی تجربات کی طرف لوٹتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوگا، جو اس وقت اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔