فرانسیسی صدرکی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں 10 افراد مجرم قرار

Brigitte Macron Brigitte Macron

فرانسیسی صدرکی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں 10 افراد مجرم قرار

ماسکو (انٹرنیشنل)
عدالت کا توہین آمیز اور بدنیتی پر مبنی مہم کے خلاف سخت مؤقف
پیرس کی ایک عدالت نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی اہلیہ بریژیت میکرون کو آن لائن ہراساں کرنے کے الزام میں 10 افراد کو مجرم قرار دیا ہے۔ فرانسیسی اخبار لی موندے کے مطابق ان افراد نے سوشل میڈیا پر یہ دعوے پھیلائے تھے کہ بریژیت میکرون ایک ٹرانسجینڈر خاتون ہیں اور پیدائش کے وقت مرد تھیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ کئی برسوں سے قانونی تنازعات کا باعث بنا ہوا تھا۔ 2024 میں بھی پیرس کی ایک عدالت نے ان افواہوں کے آغاز کرنے والوں پر مجموعی طور پر 14 ہزار یورو جرمانہ عائد کیا تھا۔ اس کیس کو اس وقت عالمی توجہ حاصل ہوئی جب امریکی مبصر کینڈس اوونز نے ان دعوؤں کو مزید پھیلایا اور بعد ازاں یہ الزام بھی لگایا کہ میکرون جوڑے نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا۔ تازہ فیصلے کے تحت 41 سے 65 سال کی عمر کے مرد و خواتین پر مشتمل تمام ملزمان کو مختلف سزائیں سنائی گئیں، جن میں آن لائن نفرت انگیز مواد کے خلاف لازمی تربیتی کورسز اور چار سے آٹھ ماہ تک معطل قید کی سزائیں شامل ہیں۔ ایک ملزم کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر چھ ماہ قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آن لائن پوسٹ کیے گئے اور پھیلائے گئے تبصرے انتہائی توہین آمیز، ذلت آمیز اور بدنیتی پر مبنی تھے۔ ان میں فرانسیسی خاتونِ اول کی مبینہ صنفی شناخت سے متعلق دعوے اور پیڈوفیلیا کے الزامات شامل تھے، جو صدر میکرون اور ان کی اہلیہ کے درمیان 24 سال کے عمر کے فرق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے تھے۔ واضح رہے کہ صدر میکرون اور بریژیت میکرون کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب بریژیت ان کے اسکول میں ڈرامہ ٹیچر تھیں۔ 2017 میں میکرون کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے یہ رشتہ مسلسل عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ توجہ جھوٹے دعوؤں اور افواہوں میں تبدیل ہو گئی، جن کے خلاف صدارتی جوڑا اب عدالتی چارہ جوئی کر رہا ہے۔

Advertisement