جنگ کے بعد پاکستانی طیاروں کو عالمی دلچسپی حاصل ہونے لگی، خواجہ آصف

Khawaja Asif Khawaja Asif

جنگ کے بعد پاکستانی طیاروں کو عالمی دلچسپی حاصل ہونے لگی، خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران پاکستانی طیارے عملی طور پر آزمائش کے مرحلے سے گزر چکے ہیں، جس کے بعد پاکستان کو دفاعی سازوسامان کے غیر معمولی آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان بھارت اور افغانستان دونوں محاذوں پر کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور مئی 2025ء میں یہ صلاحیت عملی طور پر ثابت بھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کا ردِعمل پوری دنیا نے دیکھا اور یہ واضح ہو گیا کہ بھارتی قیادت کو نہ اندرونِ ملک عزت ملی اور نہ ہی عالمی سطح پر ساکھ برقرار رہ سکی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جنگ کے دوران بھارت نے امریکا اور چین دونوں سے رابطے کیے، تاہم اگر آئندہ بھی کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان اسی مضبوط انداز میں جواب دے گا۔ ان کے مطابق بھارت کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے اور ملکی دفاعی صنعت کو عملی فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ پاکستانی طیاروں اور دفاعی نظام کی جنگی کارکردگی عالمی سطح پر نمایاں ہوئی ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ وینزویلا کے پاس نہ تو بڑی فوج تھی اور نہ ہی مؤثر ہتھیار، اس کے برعکس پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2025ء کے بعد بھارت کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان کو قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ان کے روابط بھارت سے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے بعض عناصر ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں۔

Advertisement

عالمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر امریکا واقعی انسانیت کا دوست ہے تو اسے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ مطلوب مجرم اسرائیلی وزیراعظم ہونا چاہیے، کیونکہ وہ انسانیت کے بدترین مجرم ہیں۔ وزیرِ دفاع نے عالمی نظام کو زوال پذیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملے سے پاکستان کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا ہوں گے، جبکہ اسرائیل اور امریکا یا تو ایک دوسرے کو استعمال کر رہے ہیں یا باہم مل کر خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات محض جواز تراشی تھے تاکہ مستقبل میں حملے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ وینزویلا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کو انہوں نے عالمی امن کے لیے نیک شگون قرار نہیں دیا۔