پاک افغان: امن کا قیام خطے کی ترقی اورعلاقائی روابط کے لیے ناگزیر ہے، اشتیاق ہمدانی کا فورم سے خطاب

پاک افغان امن، علاقائی سلامتی اور وسطی ایشیا سے تجارتی روابط، اشتیاق ہمدانی کا روسی فورم سے خطاب

ماسکو (صدائے روس)
روس کے شہر روستوف-آن-ڈان میں 2 اکتوبر 2026 کو دوسرے بین الاقوامی فورم ’’کثیر قطبی دنیا میں گریٹر قفقاز اور وسطی ایشیا کے ممالک کی ترقی کے عصری رجحانات‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ فورم میں روس، وسطی ایشیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین، سیاسی تجزیہ کاروں، جامعات کے نمائندوں، صحافیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ فورم میں علاقائی سلامتی، بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال، اقتصادی تعاون، ٹرانسپورٹ روابط، اطلاعاتی چیلنجز اور کثیر قطبی عالمی نظام کے تناظر میں خطے کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی صحافی، تجزیہ کار اور صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے فورم سے آن لائن خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیا اور روس کے درمیان علاقائی تعاون، تجارتی راہداریوں، ٹرانسپورٹ روابط، افغانستان میں امن و استحکام، دہشت گردی کی روک تھام اور خطے کی مجموعی سلامتی سے متعلق اہم امور پر گفتگو کی۔

اشتیاق ہمدانی نے افغانستان میں دہشت گردی کے مسئلے کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں بدستور خطے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور ان کے ممکنہ سرحد پار اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جو خصوصاً پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لیے اہم مسئلہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کو صرف افغانستان کا داخلی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، سرحد پار نقل و حرکت اور حملوں کا خطرہ نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی سکیورٹی خدشات پیدا کر سکتا ہے۔

ہمدانی نے پاکستان کی کئی دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی صورتحال کا براہ راست تعلق خطے کی سکیورٹی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے متعدد مواقع پر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے سرحد پار دہشت گرد حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اور مسلسل بین الریاستی مکالمہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابلِ تصدیق سکیورٹی میکانزم، مؤثر سرحدی نگرانی، متعلقہ اداروں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

اشتیاق ہمدانی کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور مسلسل سکیورٹی رابطہ دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک سکیورٹی معاملات پر مستقل رابطے اور عملی تعاون کو فروغ دیتے ہیں تو سرحد پار دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔ وسطی ایشیا کے ممالک بھی افغانستان میں ہونے والی پیش رفت اور وہاں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے ممکنہ اثرات کو اپنی قومی اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس لیے علاقائی ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ، مشترکہ سکیورٹی اقدامات اور باہمی تعاون زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

فورم سے خطاب میں اشتیاق ہمدانی نے افغانستان کی جغرافیائی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان وسطی ایشیا کو پاکستان اور جنوبی ایشیا کے ساتھ زمینی راستوں کے ذریعے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مستقبل میں ایک اہم تجارتی و ٹرانزٹ راہداری بن سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے افغانستان میں امن، استحکام اور قابلِ اعتماد سکیورٹی ماحول بنیادی شرط ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن، بحیرۂ عرب تک رسائی اور بندرگاہی سہولیات کی وجہ سے وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے کراچی بندرگاہ، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ بندرگاہیں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کو عالمی سمندری تجارتی راستوں اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ہمدانی نے کہا کہ وسطی ایشیا کے کئی ممالک براہ راست سمندری راستے سے محروم ہیں، اس لیے پاکستان کے ذریعے بحیرۂ عرب تک رسائی ان کے لیے تجارت اور ٹرانزٹ کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے افغانستان کے راستے پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان سڑکوں، ریلوے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو علاقائی اقتصادی تعاون کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے تاہم واضح کیا کہ کسی بھی بڑے تجارتی یا ٹرانسپورٹ منصوبے کی کامیابی صرف سڑکوں اور ریلوے کی تعمیر پر منحصر نہیں ہوگی۔ اس کے لیے افغانستان میں امن، سیاسی استحکام، سرحدی سلامتی، باہمی اعتماد اور شریک ممالک کے درمیان عملی تعاون بھی ضروری ہوگا۔

اشتیاق ہمدانی نے افغانستان کے معاملے میں روس کے سفارتی کردار کو بھی نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کئی برس سے افغانستان کے مسئلے پر علاقائی مشاورت میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ میں روس کے ساتھ پاکستان، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت خطے کے دیگر ممالک شریک رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقائی مشاورتی عمل میں افغانستان کی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی صورتحال، اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط جیسے موضوعات زیر بحث آتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق روس، پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان مسلسل سفارتی رابطہ مستقبل میں علاقائی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اشتیاق ہمدانی نے روس کے 3 جولائی 2025 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جب روس نے افغانستان کی اسلامی امارت کی موجودہ حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ماسکو اور کابل کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں، جن میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و سلامتی بہتر ہونے کی صورت میں وسطی ایشیا، افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ اس سے ریلوے، شاہراہوں، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ہمدانی کے مطابق افغانستان کے راستے علاقائی ٹرانسپورٹ راہداری کا منصوبہ صرف اقتصادی نوعیت کا منصوبہ نہیں بلکہ اس کی کامیابی کا تعلق علاقائی سلامتی، سرحدی استحکام، سیاسی اعتماد اور کثیر ملکی تعاون سے بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر سکیورٹی کے مسائل حل کیے جائیں اور علاقائی ممالک کے درمیان عملی تعاون مضبوط ہو تو اقتصادی روابط کے وسیع امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

فورم میں دیگر مقررین نے بھی گریٹر قفقاز اور وسطی ایشیا سے متعلق مختلف سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور اطلاعاتی موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ نمایاں مقررین میں لاریسا خوپیرسکایا، وکٹر خارچینکو، مرات بییشینوف، نُرلَن دوسالیئیف، پاویل ووروبیوف، تالاعیبیک اوروسکولوف، مکسات قربان گیلدیئیف اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ مقررین نے کثیر قطبی عالمی نظام، علاقائی سلامتی، وسطی ایشیا میں عالمی طاقتوں کے اثرات، اطلاعاتی ماحول، اقتصادی تعاون، ٹرانسپورٹ راہداریوں اور خطے کے مستقبل کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات پیش کیے۔

فورم کا اہتمام اے این او ’’سینٹر فار میڈیا اسٹریٹیجیز‘‘ نے کیا، جبکہ ادارے کے ڈائریکٹر مارک بائیکوف نے فورم کے انعقاد اور ماہرین کے درمیان طویل مدتی تعاون کے منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ منتظمین کی جانب سے آئندہ ایک سال کے دوران آن لائن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے اور 2027 میں اختتامی فورم منعقد کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔

مجموعی طور پر فورم میں پاکستان کی جانب سے اشتیاق ہمدانی کی شرکت نے افغانستان میں امن، پاکستان کی سرحدی سلامتی، دہشت گردی کی روک تھام اور وسطی ایشیا کے ساتھ اقتصادی و تجارتی روابط کے موضوعات کو نمایاں کیا۔ ان کے خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں پائیدار امن نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی، تجارت، ٹرانزٹ اور اقتصادی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔