ماسکو (صدائے روس) — روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کی دلچسپی کی صورت میں ماسکو ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بریفنگ کے دوران صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے بارے میں روس کا اصولی مؤقف واضح ہے: ان کا حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’اگر دونوں فریق دلچسپی ظاہر کریں تو ہم انہیں ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ہماری اس آمادگی سے آگاہ ہیں۔‘‘
روس اور افغانستان کے درمیان فوجی و تکنیکی تعاون کے حوالے سے زاخارووا نے بتایا کہ رواں سال مئی میں ماسکو میں بین الاقوامی سلامتی فورم کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان ایک بین الحکومتی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ تعاون کا عمومی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد افغانستان کی دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دینا ہے۔
روسی ترجمان کا کہنا تھا کہ ماسکو، کابل کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات اور دفاع کے شعبوں میں شراکت داری کو بتدریج وسعت دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ ممالک کے تعمیری تعاون اور اجتماعی کوششوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔
اشتیاق ہمدانی نے روس اور افغانستان کے درمیان تعاون کے مقاصد، پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ماسکو کے ممکنہ کردار، اور افغانستان کی سرزمین سے لاحق دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے میں روسی معاونت کے حوالے سے سوال کیا تھا۔