پاکستان کا وینزویلا میں امریکی کارروائی پر سلامتی کونسل میں گہری تشویش کا اظہار
اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے اصول کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بے قابو نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ کیریبین خطے میں عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔
عثمان جدون نے کہا کہ اقوام متحدہ کا منشور تمام ممالک کو پابند بناتا ہے کہ وہ دوسری ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات خطرناک نظیر قائم کرتے ہیں اور عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے قائم مقام مندوب نے زور دیا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے۔ یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب 3 جنوری کو امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد انہیں نیویارک کی جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور انہیں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلائے جائیں گے، تیل کے ذخائر قبضے میں لیے جائیں گے اور امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز امریکہ کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔ اس کارروائی پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہو رہی ہے اور متعدد ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔