ہومانٹرنیشنلپاکستان فرسٹ ، علامہ اقبال کے خواب کو بچانے اوورسیز پاکستانی سامنے...

پاکستان فرسٹ ، علامہ اقبال کے خواب کو بچانے اوورسیز پاکستانی سامنے اگئے۔

ماسکو (صدائے روس) ملک میں جاری کشیدگی پر ملک اور بیرونِ ممالک میں پاکستانیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے اور علامہ اقبال کے خواب کو بچانے پاکستان فرسٹ کے سلوگن پر اوورسیز پاکستانی سامنے اگئے۔
اس حوالے سے شاعر مشرق،حکیم الامت،نباض فطرت، مفکرپاکستان، عاشق رسولؐ حضرت علامہ محمد اقبال کے 145ویں یوم ولادت کی مناسبت سے پاکستان کمیونٹی روس کے زیر اہتمام ایک “پاکستان فرسٹ” سب سے پہلے پاکستان کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔
سیمنار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور اس کے بعد پاکستان اور روس دونوں ممالک کے ترانے سنائے گئے۔
سمینار میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد کے علاؤہ ماسکو میں مقیم روسی ، آذربایجانی، اور تاجک کمیونٹی سمیت مختلف ممالک کے میڈیا نمائندوں اورادب سے جڑے لوگوں نے بھی شرکت کی ۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفارتخانہ روس میں متعین ڈپٹی ہیڈ آف مشن رانا ثمر جاوید نے کہا کہ بیسویں صدی اسلامی فکر و تہذیب کے تجدید و احیا میں حضرت علامہ اقبال کا نام ایک روشن ترین مینار کی حیثییت رکھتا ہے آپ نے پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کی انہوں نے کہا کہ آپ کی شاعری آفاقی شاعری ہے لیکن علامہ اقبال کو شاعر کے طور پر جانا گیا لیکن ان کی سیاسی بصیرت پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ جس کی بدولت پاکستان معرض وجود میں ایا۔ علامہ اقبال نے نوجوان نسل میں جذبہ خودی کی جو بات کی آج پاکستان کے حالات کے تناظر میں ہمیں اپنے سیاسی اختلاف بھلا کر سب سے پہلے پاکستان کا سوچنا ہوگا اور آپس میں اتحاد اور یکجہتی کی بنیاد رکھنے کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا

رانا ثمر جاوید نے مذید کہا کہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ اپنے مجوزہ نظامِ تعلیم کے ذریعے وسیع تر انسانی اتحاد کے قائل تھے۔ وہ محدود نسلی، سیاسی،طبقاتی اور جغرافیائی تعصبات کو مٹا کر عالمی امن، انسانی رواداری اور عدل و انصاف کو عام کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے پیغام کو عام کر کے معاشرہ میں امن و محبت اور اخوت و مساوات کا ماحول قائم کیا جا سکتا ہے۔

روس کی مصنفہ نتالیہ پریگرینا جن کو محمد اقبال کے بارے میں بہترین کتب لکھنے پر حکومت پاکستان کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ “ستارہ امتیاز”، بھی دیا جا چکا ہے۔ نے علامہ اقبال کے روسی زبان میں ٹرانسلیٹ کئے گئے مجموعوں پر بات کی۔ انھوں نہ رشین زبان میں بانگ درا سے شکوہ اور جواب شکوہ پر کلام اقبال بھی سنایا۔
نتالیہ پریگرینا نے اپنی تقریر کو سوویت اورروسی مشرقی علوم میں علامہ اقبال کے بھرپور تخلیقی ورثے کے مطالعہ کے لیے وقف کیا، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ 20ویں صدی کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اوران کا نام عالمی ثقافت اور ادب میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گا۔

علامہ اقبال کو فارسی بولنے والے کمیونٹی بھی بہت شوق سے پڑھتی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تاجکستان کے صحافی شمس دین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علامہ اقبال کے فلسفے پر روشنی ڈالی، اور فارسی میں کلام اقبال بھی سنایا۔

روسی صحافی مادام آیدہ سوبولوا نے علامہ اقبال کے روسی ادب میں ہونے والی کاوشوں کے بارے میں اظہار خیال کیا۔
پاکستان کمیونٹی روس کے صدر ملک شہباز نے تقریب میں شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان فرسٹ کے سلوگن کو پاکستانی قوم کے لئے عصر حاضر کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے 84 برس ہو گئے لیکن ان کی عظیم شاعری کا افتخار گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اس افتخار کا بنیادی سبب وہ انقلابی فکر تھی جس نے انھیں شاعر مشرق بنایا۔

انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیزنمایندہ ایرینا سیرینکو نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز میں حال ہی میں علامہ اقبال کا انسائیکلو پیڈیا پیش کرنے کی تقریب ہوئی تھی اور اس میں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین سنیٹر ولید اقبال جوعظیم شاعر کے پوتے ہیں وہ بھی شریک ہوئے۔ ایرینا سیرینکو نے اقبال کے فکری تجسس اور اختلاف رائے کے احترام پر زور دیا۔
ایرینا سیرینکو نے نوٹ کیا کہ محمد اقبال کے کثیر جہتی تخلیقی ورثے کے مطالعہ کے ذریعے دراصل روس (سابق سوویت یونین کے اہم جانشین) اور پاکستان کے درمیان سماجی ثقافتی تعلقات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 75 سال قبل نئی ریاست پاکستان کے دنیا کے سیاسی نقشے پر نمودار ہونے کے ساتھ ہی، جس کے نظریاتی محرک مشرق کے شاعر فلسفی علامہ اقبال ہیں، ان کی بڑی شخصیت اور میراث رفتہ رفتہ سوویت یونین سے وابستہ ہو گئی۔


پاکستانی صحافی اشتیاق ہمدانی نے اس سیمنار کو ہوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی شاعری دراصل کائنات کی اٹل سچائیوں کا اعتراف ہے جس میں تعمیر حیات کا پہلو سب سے نمایاں ہے۔ یہاں عام شاعروں کی طرح شکست ، محرومی، ناامیدی اور زندگی سے فرار کی کوئی صورت نظر نہیں اتی۔
اشتیاق ہمدانی نے کہا کہ علامہ اقبال نے دین ، دنیا ، انقلاب ، محبت پر مختلف زاویوں سے لکھا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ متحد ہو کر اقبال کے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کیا جائے۔ پاکستان فرسٹ یعنی سب سے پہلے پاکستان کی ضرورت جو آج ہے وہ شاید پہلے نہیں تھی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے روس پاکستانی کمیونٹی کے سابق صدر ڈاکٹر زاہد علی خان نےعلامہ اقبال کی شاعری کی روشنی میں تعلیمات اور کامیابی پر روشنی ڈالی.۔

سیمینار سے روس کے نامور شاعرجناب ولادیمیر لوستوئی نے بھی خطاب کیا۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل