پاکستان کے پاس 2 ارب ڈالر مالیت کے چاول کے ذخائر موجود
اسلام آباد (صداۓ روس)
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں وزارت تجارت کے حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان کے پاس تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے چاول کے ذخائر موجود ہیں۔ حکام کے مطابق اسٹاکسٹس نے چاول کی خریداری میں رئیل اسٹیٹ سے آنے والا سرمایہ بھی استعمال کیا، جس کے باعث مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی کے اثرات دیکھنے میں آئے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی Javed Hanif Khan نے سوال اٹھایا کہ رائس ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) سے 15 ارب روپے کس بنیاد پر جاری کیے گئے، اور نئے بورڈ کی تشکیل سے محض دو دن قبل اس کی منظوری کس نے دی؟ انہوں نے اس فیصلے کے طریقہ کار پر وضاحت طلب کی۔
وزارت تجارت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چاول کی برآمدات کے فروغ کے لیے مالی سپورٹ فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں رائس سیکٹر کو ای ڈی ایف سے مالی معاونت نہیں دی گئی، اسی لیے بورڈ نے چاول کے ایکسپورٹرز کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو ماضی میں کئی بار اسی نوعیت کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔
حکام کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران چاول کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی سطح پر چاول کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ بھارت نے مالی سال 24-2023 میں چاول برآمد نہیں کیا تھا، تاہم اس سال بھارت کی برآمدات دوبارہ شروع ہونے سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ آیا۔
وزارت کے نمائندوں نے کہا کہ بھارتی برآمدات کے باعث عالمی قیمتوں میں کمی ہوئی اور پاکستانی و بھارتی ریٹس میں تقریباً 20 ڈالر فی ٹن کا فرق پیدا ہوا۔ اجلاس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ ایران کی مارکیٹ میں پاکستانی باسمتی کو نان باسمتی بنا کر فروخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے برآمدی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔