پیرس کی جی سیون کو برکس کے ساتھ روابط بڑھانے کی اپیل، صدر میکرون
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی “تقسیم اور انتشار” کا مقابلہ کرنے کے لیے جی سیون ممالک کو برکس کے ساتھ تعاون اور روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کے دوران کہی۔ فرانس نے جنوری میں جی سیون کی گھومتی ہوئی صدارت سنبھالی ہے۔ میکرون کے مطابق پیرس کی کوشش ہوگی کہ ایک طرف جی سیون کے اندر مؤثر تعاون کو بحال کیا جائے اور دوسری جانب دنیا کے دیگر اہم اقتصادی و سیاسی بلاکس کے ساتھ روابط کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جی سیون کے ایجنڈے میں ایک اہم مقصد “ابھرتے ہوئے ممالک، برکس اور جی ٹوئنٹی کے ساتھ پل بنانا اور تعاون کو فروغ دینا” ہے۔ صدر میکرون نے زور دیا کہ دنیا کی اس طرح کی تقسیم کسی طور معقول نہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ بڑی طاقتیں اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ عالمی معیشت کے حوالے سے مشترکہ تجزیے کرنے اور عملی اقدامات پر متفق ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ رواں برس کے آغاز میں فرانسیسی سفیروں سے اپنے سالانہ خطاب میں بھی وہ اسی نوعیت کی بات کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے واضح کیا تھا کہ جی سیون کو نہ تو چین مخالف کلب بننا چاہیے اور نہ ہی برکس مخالف۔ تاہم، ڈیووس میں گفتگو کے دوران صدر میکرون نے چین پر تنقید بھی کی اور کہا کہ بیجنگ نے یورپی یونین کی طرح اپنی منڈی کو نہیں کھولا، بلکہ یورپ کو سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے بجائے اشیا سے بھر دیا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور ایشیائی زائد پیداواری صلاحیت کے تناظر میں اپنے تجارتی دفاعی اقدامات کو مضبوط بنائے۔