امریکہ نے غلطی سے اپنا ہی ڈرون مار گرایا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی ریاست ٹیکساس کے سرحدی علاقے میں ایک مبینہ واقعے کے بعد فضائی حدود پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جہاں اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے اینٹی ڈرون سسٹم نے غلطی سے امریکی سرکاری ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ یہ دعویٰ امریکی قانون سازوں اور کانگریسی معاونین کی جانب سے کیا گیا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن Federal Aviation Administration (ایف اے اے) نے فورٹ ہینکاک، ٹیکساس کے قریب فضائی حدود میں پروازوں پر وسیع پابندیاں نافذ کر دیں۔ ادارے کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق یہ پابندیاں “خصوصی سیکیورٹی وجوہات” کی بنیاد پر لگائی گئی ہیں اور 24 جون تک برقرار رہیں گی، تاہم ایئر ایمبولینس اور سرچ اینڈ ریسکیو پروازوں کو مخصوص اجازت دی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن US Customs and Border Protection (سی بی پی) کا نگرانی کرنے والا ڈرون ایک ہائی انرجی لیزر پر مبنی اینٹی ڈرون نظام کا نشانہ بن گیا، جو بغیر پائلٹ طیاروں کے خلاف استعمال کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ڈرون کی قسم اور واقعے کی درست تاریخ تاحال واضح نہیں کی گئی۔ پینٹاگون اور ایف اے اے نے باضابطہ طور پر واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم کانگریس کے سینئر ڈیموکریٹ اراکین Rick Larsen، Bennie Thompson اور Andre Carson نے مشترکہ بیان میں فوجی اور سول اداروں کے درمیان رابطے کی کمی اور مبینہ “نااہلی” پر سخت تنقید کی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جنوبی سرحد پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں اور حکام نے میکسیکن منشیات کارٹیلز کی سرگرمیوں کے باعث نگرانی اور انسدادِ ڈرون اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ حال ہی میں میکسیکو میں منشیات کے طاقتور کارٹیل لیڈر Nemesio Oseguera Cervantes المعروف “ایل مینچو” کی مشترکہ امریکی۔میکسیکن کارروائی میں ہلاکت کے بعد کئی ریاستوں میں تشدد بھڑک اٹھا، جس کے نتیجے میں گاڑیوں اور عمارتوں کو نذرِ آتش کیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے رواں سال ہونے والے 2026 FIFA World Cup کے سیکیورٹی انتظامات پر بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔