امریکہ یورپ کے دفاع میں پیچھے ہٹنے لگا، اپنی سلامتی کو ترجیح دے گا

US army US army

امریکہ یورپ کے دفاع میں پیچھے ہٹنے لگا، اپنی سلامتی کو ترجیح دے گا

ماسکو (صداۓ روس)
امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آئندہ اپنی قومی سلامتی اور دفاع کو اولین ترجیح دے گا جبکہ یورپی اتحادیوں کو صرف محدود سطح کی فوجی معاونت فراہم کی جائے گی۔ یہ بات جمعے کے روز جاری کی گئی نئی قومی دفاعی حکمتِ عملی میں کہی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق یورپی نیٹو رکن ممالک کو اب اپنے دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود سنبھالنا ہو گی اور یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے میں بھی قیادت کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا یورپ میں بدستور موجود رہے گا، تاہم اس کی توجہ اب امریکی سرزمین کے دفاع اور چین کو روکنے پر مرکوز رہے گی۔ قومی دفاعی حکمتِ عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا نیٹو اتحادیوں کو اس بات کی ترغیب دے گا کہ وہ یورپ کے روایتی دفاع کی مکمل ذمہ داری خود اٹھائیں، جبکہ واشنگٹن صرف اہم مگر محدود نوعیت کی معاونت فراہم کرے گا۔ اس پالیسی کے تحت یوکرین کی جنگی مدد میں بھی یورپی ممالک کو مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا۔

دستاویز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ یوکرین کی جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے، تاہم اس ذمہ داری کا پہلا بوجھ یورپ پر ہی عائد ہوتا ہے۔ حکمتِ عملی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے نیٹو ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے اور امریکا پر انحصار کم کرنے کے دباؤ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

Advertisement

نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کو اپنے دفاع کی ذمہ داری سنجیدگی سے لینے پر مجبور کیا ہے، جس کے نتیجے میں نیٹو زیادہ مضبوط اتحاد بن کر ابھرا ہے۔

تاہم یورپ میں صدر ٹرمپ کے بعض بیانات پر شدید تحفظات بھی سامنے آئے ہیں، خصوصاً ڈنمارک سے گرین لینڈ کے الحاق کی دھمکیوں پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے اسے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

پینٹاگون نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کو گرین لینڈ اور پاناما کینال جیسے اہم جغرافیائی علاقوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے قابلِ عمل اور سنجیدہ آپشنز فراہم کرے گا، جنہیں صدر امریکا کی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا کی اس نئی حکمتِ عملی سے یورپ میں سلامتی کے توازن، نیٹو کے کردار اور یوکرین جنگ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔