پاکستان میں لوگوں آمدن کم، اخراجات کا بوجھ عام آدمی کو روندنے لگا

Pakistani Rupee Pakistani Rupee

پاکستان میں لوگوں آمدن کم، اخراجات کا بوجھ عام آدمی کو روندنے لگا

اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان کی معاشی صورتحال عام شہری کے لیے مسلسل دشوار ہوتی جا رہی ہے۔ کم آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات—خصوصاً خوراک، صحت اور تعلیم—نے ملک بھر میں گھرانوں پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے۔ مزدور طبقہ اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مالی دباؤ اور معیارِ زندگی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ افراطِ زر میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والے اضافے نے قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے، جس سے بنیادی اشیائے ضروریہ بہت سے لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے، جبکہ اجرتوں اور آمدنی میں اسی رفتار سے اضافہ نہیں ہو سکا۔

یہ معاشی دباؤ سماجی استحکام اور ترقیاتی اہداف پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ حکومت کو ایک طرف مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور دوسری طرف کمزور طبقات کو تحفظ دینے جیسے مشکل توازن کا سامنا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہدفی اصلاحات—جیسے روزگار کے مواقع میں اضافہ، آمدنی میں بہتری اور سماجی تحفظ کے پروگرامز—پر توجہ نہ دی گئی تو غربت کے دائرے میں مزید وسعت کا خدشہ ہے۔

Advertisement

مبصرین کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط اور عملی تعاون ناگزیر ہے تاکہ ایسی پائیدار معاشی نمو ممکن ہو سکے جس کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔