ملک بھر کے میدانی اور پہاڑی علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں آ گئے
اسلام آباد (صداۓ روس)
ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ تھم جانے کے باوجود سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ یخ بستہ ہوائیں پورے شمالی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں اور بلند مقامات واقعی ٹھنڈے ٹھار بن چکے ہیں۔ سکردو، استور، ہنزہ، دیوسائی، کاغان اور ناران کے پہاڑوں پر ہر طرف سفیدی ہی سفیدی نظر آ رہی ہے، جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گر چکا ہے۔ وادی نیلم میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں خون جما دینے والی سردی نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں آج مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پر ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ مری اور گلیات میں کڑاکے کی سردی جاری ہے، تاہم اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد برف پوش پہاڑوں اور سرد موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان علاقوں کا رخ کیے ہوئے ہے۔ ہوٹل انڈسٹری اور سیاحتی مقامات پر غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، بالائی سندھ اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں درمیانی سے شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد اور گردونواح میں موسم سرد اور خشک رہے گا، تاہم صبح اور رات کے اوقات میں چند مقامات پر دھند پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ شمالی اضلاع میں صبح اور رات کے وقت شدید سردی رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد مناظر انتہائی حسین ہو گئے ہیں۔ کالام، مالم جبہ، گبین جبہ اور مہوڈنڈ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد تک گر چکا ہے، مگر سیاح برفباری کے بعد کے موسم سے بھرپور لطف اٹھا رہے ہیں۔ دیر کے علاقوں کمراٹ اور لواری ٹنل میں بھی شدید سردی کے باوجود سیاحوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جبکہ چترال اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔
میدانی علاقوں میں سردی کے ساتھ ساتھ دھند نے بھی شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ پشاور سے صوابی تک موٹر وے بند کر دی گئی ہے جبکہ جی ٹی روڈ پر حد نظر انتہائی کم ہونے کے باعث سفر دشوار ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ سردی کی یہ لہر مزید جاری رہے گی، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور گھر سے باہر نکلتے وقت سر اور کان ڈھانپ کر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ شدید سرد موسم اس پس منظر میں آیا ہے جب حالیہ برفباری کے بعد شمالی پاکستان کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، مگر دھند اور سردی نے میدانی علاقوں میں ٹریفک اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔