پولینڈ نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ’’انتہائی نازک‘‘ قرار دے دیا
پولینڈ اور بھارت کے درمیان تعلقات اس وقت شدید تناؤ کا شکار ہیں اور انہیں ’’انتہائی نازک‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات پولینڈ کی حکمران جماعت لاء اینڈ جسٹس پارٹی کے رکن پارلیمان پاویل یابلونسکی نے 20 جنوری کو کہی۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حالیہ سفارتی واقعے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے دوران بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے پولینڈ کے وزیرِ خارجہ راڈوسلاو سکورسکی کو کھلے عام ’’دوہرے معیار‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے پولینڈ کے مؤقف کو بھارت۔پاکستان تنازع اور یوکرین بحران کے حوالے سے متضاد قرار دیا۔ پاویل یابلونسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ سفارتی آداب کے مطابق، دو طرفہ مذاکرات کے عوامی حصے میں ایک وزیرِ خارجہ کا دوسرے کو سرزنش کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی خراب سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں تعلقات کو معمول کی سفارتی کشیدگی نہیں بلکہ ’’انتہائی سنگین بحران‘‘ سمجھا جانا چاہیے۔
یہ واقعہ یورپ اور ایشیا کے درمیان بدلتے ہوئے سفارتی توازن اور عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں مختلف تنازعات پر مؤقف اب دو طرفہ تعلقات کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔