صدر پوتن نے فلسطین، یوکرین اور گرین لینڈ سے متعلق روسی مؤقف پیش کردیا

Putin Putin

صدر پوتن نے فلسطین، یوکرین اور گرین لینڈ سے متعلق روسی مؤقف پیش کردیا

ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روسی فیڈریشن کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے ساتھ ایک عملیاتی اجلاس منعقد کیا، جس میں عالمی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ، یوکرین بحران اور امریکا کی نئی سفارتی تجاویز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں صدر پوتن نے بتایا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’پیِس کونسل‘‘ کے قیام سے متعلق ایک ذاتی پیغام موصول ہوا ہے، جس میں روس کو اس نئے بین الاقوامی ڈھانچے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ صدر پوتن نے اس پیشکش پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روس ہمیشہ بین الاقوامی استحکام کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔

انہوں نے یوکرین بحران کے حل کے لیے موجودہ امریکی انتظامیہ کی کوششوں کو بھی سراہا، تاہم واضح کیا کہ ’’پیِس کونسل‘‘ میں شمولیت کے حوالے سے حتمی فیصلہ روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے دستاویزات کے جائزے، اسٹریٹجک شراکت داروں سے مشاورت اور مکمل تجزیے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ صدر پوتن کے مطابق امریکی تجویز کا مرکزی محور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ، فلسطینی عوام کے دیرینہ مسائل کا حل اور غزہ کی سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین۔اسرائیل تنازع کا حل صرف اور صرف اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ صدر پوتن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ روس، امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے تناظر میں، سابق امریکی حکومت کے دور میں منجمد کیے گئے روسی اثاثوں میں سے ایک ارب امریکی ڈالر ’’پیِس کونسل‘‘ کے لیے مختص کرنے پر غور کر سکتا ہے، خصوصاً فلسطینی عوام کی مدد اور غزہ کی بحالی کے لیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باقی منجمد اثاثے مستقبل میں یوکرین میں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ امن معاہدہ طے پا جائے۔

Advertisement

صدر پوتن نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام امور پر فلسطینی صدر محمود عباس، امریکی نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بھی بات چیت کریں گے، جو 22 جنوری کو ماسکو پہنچ رہے ہیں۔ گرین لینڈ سے متعلق سوال پر صدر پوتن نے کہا کہ یہ معاملہ روس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ تاہم تاریخی تناظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ 1867 میں روس نے الاسکا امریکا کو فروخت کیا تھا اور امریکا و ڈنمارک کے درمیان بھی ایسے سودوں کی مثالیں موجود ہیں، جیسا کہ 1917 میں ورجن آئی لینڈز کی فروخت۔
انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے کو امریکا اور ڈنمارک آپس میں خود حل کر لیں گے اور روس اس میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔