پروفیسر جیانگ کا دعویٰ، ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ میں امریکا کو شکست کا خطرہ

Professor Jiang claims that the US is at risk of defeat in a possible war with Iran Professor Jiang claims that the US is at risk of defeat in a possible war with Iran
Professor Jiang claims that the US is at risk of defeat in a possible war with Iran

ماسکو (صداۓ روس)
ماسکو: معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ کار اور یوٹیوب چینل **پری ڈکٹیو ہسٹری** کے میزبان پروفیسر جیانگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری یا ممکنہ جنگ میں امریکا کو بالآخر شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ تنازع عالمی طاقت کے توازن کو بھی بدل سکتا ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر جیانگ نے کہا کہ وہ عالمی سیاسی اور عسکری واقعات کا تجزیہ **گیم تھیوری** کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے ممکنہ رجحانات کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 میں انہوں نے تین اہم پیش گوئیاں کی تھیں۔ پہلی یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے، دوسری یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جنگی محاذ کھول سکتی ہے، جبکہ تیسری پیش گوئی یہ تھی کہ اس جنگ میں امریکا کو فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی۔

پروفیسر جیانگ کے مطابق ان کی پہلی دو پیش گوئیاں بڑی حد تک درست ثابت ہو چکی ہیں کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ عالمی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ان کے بقول 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے دنیا بڑی حد تک ایک **یک قطبی عالمی نظام** کے تحت چل رہی ہے جس میں امریکا غالب طاقت کے طور پر موجود رہا، تاہم موجودہ تنازع اس توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔

پروفیسر جیانگ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ دو برس سے ممکنہ جنگ کی تیاری کر رہا تھا اور ایرانی بیانیے میں اس تصادم کو مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکا، کے خلاف ایک بڑی جدوجہد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو ایران خطے میں **غیر روایتی یا اسیمیٹرک حکمتِ عملی** اختیار کر سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک میں تیل کے کنوؤں اور ریفائنریوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس سے عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عرب ممالک میں موجود سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے **ڈی سیلینیشن پلانٹس** بھی ممکنہ طور پر حساس اہداف بن سکتے ہیں، کیونکہ یہ تنصیبات ان ممالک میں تازہ پانی کی فراہمی کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتی ہیں۔

پروفیسر جیانگ کے مطابق ایران طویل المدتی اور غیر روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا کے اسلحہ ذخائر، سپلائی لائنز اور سیاسی عزم پر مسلسل دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کو اس تنازع میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر امریکی بالادستی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور ایک نئی **کثیر قطبی عالمی ترتیب** ابھر سکتی ہے جس میں چین اور روس زیادہ مضبوط کردار کے ساتھ سامنے آئیں گے۔

تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے نتائج کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوتا ہے کیونکہ زمینی حقائق، فوجی حکمت عملی اور سفارتی پیش رفت کسی بھی وقت صورت حال کو مختلف سمت میں لے جا سکتی ہے۔