وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ٹائم لائن مقرر کردی
لاہور (صداۓ روس)
مریم نواز نے پنجاب پولیس میں فوری اور مؤثر اصلاحات کے لیے تین ماہ کی واضح ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ فورس کے رویے، احتساب اور عوامی خدمت کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس ہر شہری کو احترام کے ساتھ “سر” کہہ کر مخاطب کرے گی اور کسی بھی اہلکار کو “سر” یا “جناب” کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد اور شائستگی کو فروغ دیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے تھانوں کے باہر پینک بٹن نصب کرنے اور ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم دس اہلکاروں پر باڈی کیم لگانے کی ہدایت بھی جاری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت بڑھے گی، شکایات کے ازالے میں آسانی ہوگی اور اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ باڈی کیمز اور پینک بٹن جیسے اقدامات شہریوں کے تحفظ اور فوری رسپانس کے نظام کو مضبوط کریں گے۔
خواتین کے تحفظ پر خصوصی زور دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ “پولیس کی موجودگی میں اگر کوئی بیٹی خود کو غیر محفوظ سمجھے تو یہ ناقابلِ برداشت ہے۔” انہوں نے ہدایت کی کہ شکایت درج کروانے والی خواتین کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی تذلیل یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق خواتین کی مدد اور رہنمائی پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں کوتاہی پر سخت کارروائی ہوگی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت تربیتی پروگرامز، نگرانی کے مؤثر نظام اور کارکردگی کے پیمانے بھی متعارف کروائے جائیں گے، تاکہ پنجاب پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں قابلِ پیمائش نتائج پیش کیے جائیں اور پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ رکھا جائے۔