پنجاب میں کم عمری کی شادی جرم قرار، 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی

Under age marriage Under age marriage

پنجاب میں کم عمری کی شادی جرم قرار، 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی

اسلام آباد (صداۓ روس)
پنجاب میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے نیا قانونی اقدام سامنے آ گیا ہے، جہاں حکومت نے انسدادِ کم عمری کی شادی سے متعلق آرڈیننس تیار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ آرڈیننس آئندہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو باقاعدہ جرم قرار دیا جائے گا۔ آرڈیننس کے مسودے کے مطابق نکاح رجسٹرار اگر کم عمر کی شادی رجسٹر کرے گا تو اسے ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کے کسی شخص کا کم عمر لڑکی سے نکاح کم از کم دو سال قید کے زمرے میں آئے گا، جبکہ کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ افراد پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ قانونی مسودے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے بعد کم عمر لڑکی کے ساتھ رہائش یا تعلقات کو چائلڈ ابیوز تصور کیا جائے گا، جس پر پانچ سے سات سال قید اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ مزید برآں کم عمر بچوں کو شادی کی غرض سے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ کے مترادف ہو گا۔

آرڈیننس کے تحت سرپرست یا والدین اگر کم عمری کی شادی کرانے میں ملوث پائے گئے تو انہیں دو سے تین سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔ تمام چائلڈ میرج مقدمات سیشن کورٹ میں چلیں گے، جبکہ عدالت کو کم عمری کی شادی روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ اس قانون کے تحت تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ قرار دیا گیا ہے۔

Advertisement