صدر پوتن نے انتہائی سردی میں یوکرین پر حملے روکنے پر رضامند ، ٹرمپ کا دعویٰ

Trump Trump

صدر پوتن نے انتہائی سردی میں یوکرین پر حملے روکنے پر رضامند ، ٹرمپ کا دعویٰ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین میں شدید سرد موسم کے باعث ایک ہفتے کے لیے کیف اور دیگر شہروں پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ ان کی ذاتی درخواست پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کیا۔ امریکی صدر نے جمعرات کو کابینہ اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید سردی کی وجہ سے انہوں نے خود صدر پوتن سے درخواست کی کہ وہ ایک ہفتے کے لیے کیف اور دیگر شہروں پر حملے نہ کریں، جس پر روسی صدر نے رضامندی ظاہر کر دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے “بہت خوش” ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا جن میں ماسکو اور کیف کے درمیان مبینہ ’توانائی جنگ بندی‘ کا ذکر کیا جا رہا تھا، جبکہ یوکرینی فضائیہ نے بھی ایسی کسی جنگ بندی کی تردید کی ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی متعدد مرتبہ توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں، جس کے تحت دونوں فریق ایک دوسرے کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بند کر دیں۔ یہ مطالبات اس ہفتے مزید شدت اختیار کر گئے، جب روسی حملوں کے نتیجے میں کیف میں تقریباً دس لاکھ گھرانوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ یوکرین کے وزیرِ توانائی ڈینس شمیہال نے بتایا۔

Advertisement

روس کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ان تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے جو یوکرینی فوج یا عسکری صنعتی نظام سے منسلک ہوں، اور یہ حملے یوکرین کی جانب سے روسی شہریوں اور اہم تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کا ردعمل ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ ہفتے کے آخر میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں درجہ حرارت منفی 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ روس نے گزشتہ برس مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد توانائی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم روسی حکام کے مطابق یوکرینی افواج نے چند ہی دن بعد روسی آئل ریفائنریوں اور گیس تنصیبات پر حملے کر کے اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ ماسکو نے اس کے باوجود جوابی کارروائی سے گریز کیا۔

گزشتہ ماہ صدر زیلنسکی اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے نئی جنگ بندی کی اپیل پر کریملن نے واضح کیا تھا کہ روس عارضی وقفے کے بجائے مستقل اور دیرپا امن کا خواہاں ہے، جو باقاعدہ معاہدوں کے ذریعے حاصل کیا جائے۔