صدر پوتن کی ایرانی اعلیٰ سلامتی عہدیدار سے ملاقات
ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر صدر پوتن نے جمعے کے روز کریملن میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی سے غیر اعلانیہ اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ کریملن کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی روس کے دورے پر ہیں اور صدرِ مملکت نے انہیں کریملن میں قبول کیا، تاہم مذاکرات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے بتایا کہ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مشاورت کی گئی۔ علی لاریجانی، جو ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سینئر مشیر بھی ہیں، گزشتہ سال اگست میں اپنے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور اس سے قبل وہ موسمِ گرما میں ماسکو کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں امریکا نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے مبینہ پرتشدد کریک ڈاؤن میں کردار کے الزام پر علی لاریجانی پر پابندیاں عائد کیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ احتجاج معاشی مسائل کے پس منظر میں شروع ہوئے تاہم بعد ازاں انہیں بیرونی حمایت یافتہ بغاوت میں بدلنے کی کوشش کی گئی، جس کا مقصد ریاستی ردِعمل کو سخت بنا کر امریکی مداخلت کا جواز پیدا کرنا تھا۔
اسی تناظر میں صدر پوتن نے رواں ماہ کے اوائل میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا تھا، جس میں داخلی صورتحال اور خطے کی سیکیورٹی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے عروج پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت کارروائی کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم حتمی فیصلے میں تاخیر کرتے ہوئے انہوں نے خطے میں بحری قوت تعینات کر دی تاکہ تہران پر نئے جوہری معاہدے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی منصوبہ بندی بدستور جاری ہے اور مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں، جن میں ایرانی سیکیورٹی اداروں اور جوہری تنصیبات پر حملے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی قیادت نے سخت دھمکیوں کے جواب میں غیر معمولی دفاعی ردِعمل کا اعلان کیا ہے۔ خطے میں دونوں جانب سے فوجی مشقوں کی تیاری کے باعث اشتعال انگیزی اور غلط اندازوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔