گزشتہ چھ ماہ میں دونباس میں بڑی روسی پیش قدمی: صدر پوتن کا انکشاف

Russian Military Russian Military

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ روسی فوج نے پچھلے چھ ماہ کے دوران کیف کے قبضے میں موجود ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک (DPR) کے تقریباً 40 فیصد علاقے کو آزاد کرا لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب یوکرینی افواج کے پاس ڈونیٹسک کے صرف 15 سے 17 فیصد علاقے پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔
ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کے سربراہ ڈینس پوشیلن سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے پوتن نے بتایا کہ چھ ماہ قبل روسی حکام کا اندازہ تھا کہ کیف کے پاس ڈی پی آر کے تقریباً 25 فیصد علاقے پر قبضہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق یہ تناسب اب 15 سے 17 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔
صدر پوتن نے مزید کہا کہ 2025 کے بیشتر حصے میں روسی حملوں کے نتیجے میں یوکرینی افواج کو ڈونباس کے وسیع علاقوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ روسی فورسز نے ڈی پی آر اور ملحقہ زاپوروزھیہ ریجن میں درجنوں بستیوں پر قبضہ کیا، جو دونوں 2022 میں روس میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال خارکیف، سومی اور دنیپروپیٹروسک ریجنز میں بھی پیش قدمی کی گئی۔
دسمبر میں روسی فوج نے ڈی پی آر کے شمالی حصے میں یوکرینی فورسز کے سابقہ مضبوط مرکز سیویرسک کو آزاد کرایا۔ اس کے ساتھ ہی کراسنوآرمیسک (یوکرین میں پوکروسک کے نام سے مشہور) اور اس کے قریبی شہروں دمتریوف (میرنوگراد) اور روڈنینسکویے پر بھی قبضہ کر لیا۔ کراسنوآرمیسک ڈونباس میں کیف کے کنٹرول میں موجود سب سے بڑے شہروں میں سے ایک تھا اور مغربی ڈونباس میں یوکرینی فورسز کے لیے اہم لاجسٹک مرکز بھی تھا۔ یہ علاقہ بھاری دفاعی انتظامات کے ساتھ مضبوط بنایا گیا تھا۔
کراسنوآرمیسک اور دمتریوف کی جنگ موسم گرما سے لے کر 2025 کے موسم سرما تک جاری رہی۔ اس آپریشن کے دوران روسی فوج نے 2022 میں ماریوپول کی جنگ کے بعد پہلی بار کئی یوکرینی بریگیڈز کو جسمانی طور پر گھیرے میں لینے میں کامیابی حاصل کی۔
پوتن نے کراسنوآرمیسک اور دمتریوف کی آزادی کو “ڈی پی آر کی مکمل آزادی کی جانب ایک اہم قدم” قرار دیا۔
ماسکو نے بارہا واضح کیا ہے کہ یوکرین تنازع کے جامع اور پائیدار حل کے لیے کیف کو ڈونباس پر اپنے دعوے سے دستبردار ہونا ہوگا، جسے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مسلسل مسترد کر رکھا ہے۔
دسمبر میں روسی صدارتی مشیر یوری اوشاکوف نے کہا تھا کہ ماسکو ڈونباس کو خودمختار روسی علاقہ سمجھتا ہے اور اس پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، چاہے بات چیت کے ذریعے ہو یا فوجی طاقت سے۔