صدر پوتن کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، ایران میں کشیدگی پر تبادلۂ خیال

Putin Putin

صدر پوتن کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، ایران میں کشیدگی پر تبادلۂ خیال

ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران حالیہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ یہ مظاہرے گزشتہ ماہ کے اواخر میں شروع ہوئے تھے، جن کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق احتجاجی مظاہرے جلد ہی سکیورٹی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے، جن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی حکام نے ان فسادات کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ کریملن کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے صدر پوتن کو ملک میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ایرانی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور نے ایران اور مجموعی طور پر خطے میں کشیدگی میں جلد از جلد کمی اور تمام مسائل کے حل کے لیے صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔

صدر پوتن اور مسعود پزشکیان نے روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا، جس میں مختلف شعبوں میں مشترکہ معاشی منصوبوں پر عملدرآمد شامل ہے۔ ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے رواں ہفتے کہا ہے کہ ماسکو ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ ان کے مطابق بعض غیر ملکی طاقتیں پرامن احتجاج کو بے مقصد اور پرتشدد بدامنی میں تبدیل کرنے اور ایران میں نظام کی تبدیلی کی کوشش کر رہی ہیں۔ ماریا زاخارووا نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق امریکی دھمکیوں کو قطعی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایران کے معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ مغربی پابندیوں کو بھی قرار دیا۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف متعدد سخت بیانات دیے ہیں اور مظاہرین سے ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ رواں ہفتے انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ تہران کے خلاف ’’انتہائی سخت آپشنز‘‘ پر غور کر رہی ہے۔ ایران روس کا دیرینہ اتحادی ہے اور دونوں ممالک نے گزشتہ سال جنوری میں مسعود پزشکیان کے دورۂ ماسکو کے دوران اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

Advertisement