چترال میں نایاب برفانی تیندوئے کی لاش برآمد، وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع
اسلام آباد (صداۓ روس)
چترال کے علاقے گرم چشمہ سے ایک نایاب برفانی تیندوئے کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ماہرینِ ماحولیات اور جنگلی حیات سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ سے وضاحت اور تحقیقات کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ برفانی تیندوئے کی ہلاکت کو سنجیدہ ماحولیاتی تشویش قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ جانور پہلے ہی دنیا بھر میں شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق برفانی تیندوا قدرتی ماحول میں عموماً 10 سے 13 سال تک زندہ رہتا ہے، جبکہ قید یا چڑیا گھروں میں اس کی عمر 20 سے 25 سال تک ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں برفانی تیندوؤں کی زیادہ تر اموات شکار، انسانی آبادی کے ساتھ تصادم یا غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث ہوتی ہیں۔
دیگر ممکنہ وجوہات میں اونچے پہاڑوں سے گرنے کے نتیجے میں لگنے والی چوٹیں، مختلف بیماریاں، شکار کی کمی شامل ہیں۔ شدید برف باری کے باعث مارخور اور آئبیکس جیسے جانور نچلے علاقوں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں، جس سے برفانی تیندوئے کو خوراک کی قلت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شکار یا حقِ زوجیت پر آپسی لڑائیاں، موسمیاتی تبدیلی، ماں سے بچھڑ جانے والے بچے اور چرواہوں کے پالتو کتوں کے حملے بھی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
حکام کے مطابق برفانی تیندوئے کی موت کی حتمی وجہ کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ واضح رہے کہ برفانی تیندوا دنیا کے نایاب ترین جانوروں میں شمار ہوتا ہے اور عالمی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیموں نے اسے انتہائی خطرے سے دوچار اقسام میں شامل کر رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس نایاب جانور کے معدوم ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔