ایران کی جوابی کارروائیاں، مشرقِ وسطیٰ کے دس ممالک متاثر
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے کی گئی جوابی میزائل اور ڈرون حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کے کم از کم دس ممالک کو متاثر کیا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور صورتحال وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے اثرات Israel سمیت Bahrain، Jordan، Iraq، Qatar، Kuwait، Oman، Saudi Arabia اور United Arab Emirates تک محسوس کیے گئے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے بنیادی طور پر اسرائیلی اہداف اور خطے میں امریکی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق Syria کے فضائی دفاعی نظام نے بھی ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کارروائی میں حصہ لیا جبکہ دارالحکومت دمشق میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صرف اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے تھے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس میں تہران سمیت کئی بڑے ایرانی شہر نشانہ بنے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری حملوں اور جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔