ترک ورثے کا احیا اور بین الاقوامی تعاون — ایک خصوصی گفتگو

آذربائیجان کی نیوز ایجنسی وائس پریس (Voicepress.az) کی نمائندہ جمیلہ چبوتاریووا نے ترک کلچر اینڈ ہیریٹیج فنڈ کی صدر، پروفیسر اور ڈاکٹر آف آرٹس اسٹڈیز آکٹوٹا رائمکولُوا سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیشِ خدمت ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے فنڈ کے قیام، مشن، بین الاقوامی تعاون، ثقافتی ورثے کے تحفظ، رکن ممالک کی توسیع، یونیسکو کے ساتھ مشترکہ پروگرامز اور ترک دنیا کے مستقبل کے بارے میں تفصیلی طور پر بتایا۔

(ترجمہ: اشتیاق ہمدانی)

سوال: محترمہ آکٹوٹا خانم، براہ کرم یہ بتائیے کہ ترک کلچر اینڈ ہیریٹیج فنڈ کا بنیادی مشن کیا ہے اور آپ اس تنظیم میں کس نوعیت کی سرگرمی انجام دے رہی ہیں؟

Advertisement

آکٹوٹا رائمکولُوا: سب سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ فنڈ کا قیام 2012 میں آذربائیجان کے صدر، جناب الہام علییف کی تجویز پر عمل میں آیا۔ اس اہم اقدام کی حمایت قازقستان، کرغیزستان اور ترکی کے صدور نے بھی کی اور یہ وہ لمحہ تھا جب ترک دنیا کی مشترک ثقافتی شراکت داری ادارہ جاتی سطح پر تشکیل پانے لگی۔

فنڈ کا اصل مشن ترک دنیا کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا، عالمی سطح پر اسے متعارف کروانا اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ موجودہ دور میں جب گلوبلائزیشن کے نتیجے میں شناخت کے مسائل جنم لے رہے ہیں، اس بات کی اور زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اپنی جڑوں کو پہچانیں تاکہ مستقبل میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ثقافت ماضی اور مستقبل کے درمیان پل ہے، اور جب کسی قوم کو اپنی زبان، فلسفہ، جمالیات اور تاریخی یادداشت کا شعور حاصل ہو تو اس کا وجود زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

ہم اپنی سرگرمیوں کے ذریعے مادّی اور غیر مادّی ورثے — جیسے آثارِ قدیمہ، موسیقی، دستکاری، زبان، ادب، فلوکلور اور روایات — دونوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف تحفظ نہیں بلکہ پیشکش، احیا اور عالمی شناخت بھی ہے، تاکہ ترک دنیا کے درمیان ثقافتی یکجہتی مزید مضبوط ہو۔

سوال: آپ کا بطور صدر تقرر کیسے عمل میں آیا اور اس کے بارے میں آپ کا ردعمل کیا تھا؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: میرے لیے یہ تقرر بہت بڑے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی تھا۔ میں قازقستان میں مختلف ریاستی اور حکومتی عہدوں پر کام کرتی رہی ہوں، جن میں 2019 سے 2022 تک وزیرِ ثقافت و کھیل اور اس کے بعد “قازاخ کنسرٹ” کی سربراہی شامل ہے۔ یہ تجربہ میرے لیے ثقافتی سفارت کاری اور پالیسی فریم ورک کی مضبوط بنیاد بنا۔

میری نامزدگی ترک ریاستوں کی تنظیم کے آستانہ سربراہی اجلاس میں تمام ترک ممالک کے صدور کی متفقہ حمایت سے منظور ہوئی، اور اسی لیے اسے میں اعتماد اور مشترک فیصلہ سازی کا عمل سمجھتی ہوں۔ جب مجھے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تو یہ لمحہ نہایت جذباتی تھا اور میں نے اسے ان تمام ممالک کے اعتماد کے طور پر لیا، نہ کہ صرف اپنی کارکردگی کے اعتراف کے طور پر۔

سوال: اس منصب پر روزمرہ کی نوعیت کے کیا چیلنجز سامنے آتے ہیں؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: میں لفظ “مشکلات” استعمال نہیں کرتی، کیونکہ آج ترک دنیا تیز ترین تبدیلیوں اور نئی پیش رفت کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر مواقع کی شکل میں سامنے آ رہی ہیں۔ ترک ممالک کے درمیان اعتماد، احترام اور اسٹریٹجک ہم آہنگی بڑھ رہی ہے اور یہ تاریخی طور پر ایک نئی علامت ہے۔ ہم اس عمل کو نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ اس کا حصہ بھی ہیں اور یہ فنڈ کے کام کو نئی معنویت دیتا ہے۔

سوال: فنڈ کے دائرہ کار میں کون سے ممالک شامل ہیں اور بین الاقوامی تعاون کس سطح پر ہے؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: بنیادی رکن ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغیزستان اور ترکی ہیں۔ 2019 میں ہنگری مبصر ملک کی حیثیت سے شامل ہوا، 2025 میں ازبکستان مکمل رکن بنا اور ترکمانستان مبصر ملک کے طور پر شامل ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ان ممالک میں بھی کام کرتے ہیں جہاں ترک النسل اقوام موجود ہیں، جیسے پولینڈ اور رومانیہ۔ فنڈ نے UNESCO، TURKSOY، TURKPA، ICESCO، ICHCAP سمیت متعدد عالمی اداروں سے تعاون کے معاہدے کیے ہیں اور گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 30 معاہدے طے پائے ہیں۔

سوال: ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: یہ عمل جذباتی نہیں بلکہ تکنیکی اور سائنسی پہلو رکھتا ہے۔ اسی لیے ہم نے ترک ممالک کے ماہرین، معماروں اور مؤرخین پر مشتمل مشاورتی کونسل قائم کی ہے۔ عملی سطح پر ہم نے بشکیک، فیزولی، قازقستان اور قرغیزستان میں بحالی منصوبے شروع کیے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں “Turkic Heritage” نامی عالمی پلیٹ فارم بھی تیار ہو رہا ہے جو ورثے کی ڈیجیٹل دستاویز کاری کرے گا۔

سوال: فنڈ کے کون سے منصوبے آپ سب سے زیادہ اہم قرار دیتی ہیں؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: ہمارے لیے تمام منصوبے اہم ہیں، مگر چند نمایاں مثالیں ضرور ہیں۔ “ترک ثقافتی کوڈ” کا کثیر لسانی کیٹلاگ، “ترک فلوکلور کی انٹولوجی”، UNESCO کے ساتھ مشترکہ کانفرنسیں، نوجوان نسل کے لیے Turk Discovery میڈیا پروجیکٹ، اور “ترک ثقافت مراکز” کا قیام — یہ تمام منصوبے ترک دنیا کے تہذیبی نقشے کی نئی تشکیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ پچھلے دو برسوں میں فنڈ نے 135 منصوبے مکمل کیے ہیں۔

سوال: اس وقت فنڈ کن نئے منصوبوں پر کام کر رہا ہے؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: 1926 میں باکو میں ہونے والے پہلے ترکولوجیکل کانگریس کی 100ویں سالگرہ کی تیاری ایک اہم منصوبہ ہے، جو تمام رکن ممالک میں منایا جائے گا۔ اس سال 70 سے 80 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، لیکن پچھلے تجربے کی روشنی میں یہ تعداد 100 سے تجاوز کر جاتی ہے، جیسا کہ گزشتہ سال ہوا۔

سوال: آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟

آکٹوٹا رائمکولُوا: میرا پیغام بہت واضح ہے: ثقافت صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضمانت ہے۔ ترک دنیا کے لیے اہم رہنمائی آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے اس قول میں موجود ہے کہ “ہماری دوسری کوئی فیملی نہیں، ہماری فیملی ترک دنیا ہے۔” یہی سوچ ہمارے کام کی بنیاد اور ہمارا اخلاقی فریم ورک ہے۔