امیر ممبئی کا دوسرا چہرہ: غربت اور گندگی کے سنگین مسائل برقرار

Mumbai Mumbai

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت کے بڑے اور امیر شہر ممبئی کو عام طور پر معاشی سرگرمیوں اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم اس شہر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جہاں غربت، گندگی اور کچرے کے مسائل بدستور سنگین صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شہر میں کچرے اور صفائی کے انتظامات ایک دیرینہ مسئلہ بن چکے ہیں جس کی بنیادی وجوہات آبادی کا شدید دباؤ، بڑھتا ہوا استعمال اور شہری ڈھانچے کی محدود صلاحیت ہیں۔ ممبئی کے مختلف علاقوں خصوصاً کچی آبادیوں میں کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر عام منظر بن چکے ہیں، جبکہ امیر اور پوش علاقوں میں بھی جگہ جگہ کوڑا کرکٹ دیکھا جا سکتا ہے۔ شہر کے نالے اور سیوریج نظام اکثر کچرے سے بند ہو جاتے ہیں جس کے باعث نکاسی آب کے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ حکام کی جانب سے شہر کے تقریباً 2900 کلومیٹر طویل برساتی نالوں کے نظام کو صاف کرنے اور گاد نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس کے باوجود شہر کو سیلاب اور کچرے کے انتظام سے متعلق مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچرے کو الگ الگ جمع کرنے کے بارے میں عوامی شعور میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن عملی سطح پر اس نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ شہر کی غیر معمولی آبادیاتی کثافت کے باعث کچرے کا انتظام شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔